تری فرقت ستاتی ہے محمد مصطفیٰ مجھ کو
تری فرقت ستاتی ہے محمد مصطفیٰ مجھ کو
بلا لے اپنی روضہ پر حبیبِ کبریا مجھ کو
نہ گھر میں چین پڑتا ہے نہ باہر دل بہلتا ہے
کروں کیا کچھ نہیں بنتی تمہیں دیکھو ذرا مجھ کو
دلِ مضطر بہت مشتاق ہے تیری زیارت کا
دکھا دے خواب میں یک شب رخِ بدرالدجیٰ مجھ کو
شفیعِ عاصیاں تو ہے امام مرسلاں تو ہے
قیامت کو بجز تیرے نہیں ہے آسرا مجھ کو
غمِ محشر ستاتا ہے کلیجہ منہ کو آتا ہے
حدیثِ لاتخف اپنی زباں سے تو سنا مجھ کو
اٹھیں گے حشر کے دن اہلِ محشر اپنی قبروں سے
تو اپنے پاؤں کی ٹھوکر سے ارماں ہے اٹھا مجھ کو
گناہوں سے یہ ہے نادم تمہیں ہے آپ کا خادم
بچانا حشر میں مولا بھروسا ہے ترا مجھ کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.