تضمینی کلام ـ پہلے احمد تھے اب مصطفیٰ ہوگئے
دلچسپ معلومات
تضمین بر غزل حضرت شاہ اکبر داناپوری۔
پہلے احمد تھے اب مصطفیٰ ہوگئے
دونوں عالم کے حاجت روا ہوگئے
صاحب تاج عالی علا ہوگئے
شکل آدم میں جلوہ نما ہوگئے
پہلے کیا تھے مگر اب وہ کیا ہوگئے
وہ فقیروں کے عقدہ کشا ہوگئے
درد مندوں کے دل کی دوا ہوگئے
الغرض سب کے حاجت روا ہوگئے
شکل آدم میں جلوہ نما ہوگئے
پہلے کیا تھے مگر اب وہ کیا ہوگئے
جب فرشتوں کے وہ مقتدا ہوگئے
حور و غلماں سبھی مبتلا ہوگئے
انبیا دیکھتے ہی فدا ہو گئے
شکل آدم میں جلوہ نما ہوگئے
پہلے کیا تھے مگر اب وہ کیا ہوگئے
جب زمانہ پہ تھا کفر چھایا ہوا
تم نے شمع ہدایت کو روشن کیا
نور ایماں سے کر دی دلوں کی جلا
دل میں جب عشق خالق کا پیدا ہوا
دل لبھانے کو تم دلربا ہوگئے
جتنا چاہے ستا کے تو اے درد دل
تجھ سے شکوہ نہیں کچھ مجھے درد دِل
تو نے بخشے نہیں کیا کیا مزے دردِ دل
جب کہا رو کے ایوب نے درد دل
درد ایوب کی تم دوا ہوگئے
درد نامِ محمد ہے لیل و نہار
میرا بیڑا بھی ہو بحر عصیاں سے پار
سب کے حامی ہو تم اے شہِ نامدار
ہاجرہ جب ہوئیں پیاس سے بے قرار
تم وہیں چشمۂ پر صفا ہوگئے
نور احمد کو جب حق نے پیدا کیا
شکل قندیل کرسی پہ روشن ہوا
طاعتِ حق دل و جاں سے کرنے لگا
بن کے حامد کرے خوب حمد و ثنا
اب وہ محمود علی علٰی ہوگئے
تو وہ ہے جس سے شرمندہ حور و پری
تجھ کو بخشی ہے خالق نے وہ برتری
تھی جو مقصود مخلوق کی رہبری
شیث میں تم نے کی آ کے جلوہ گری
صلبِ آدم سے جب تم جدا ہوگئے
جس کو حاصل ہے مخلوق کی رہبری
نور احمد کی ہے ساری جلوہ گری
کون ہے جو کرے آپ کی ہمسری
بطن ماہی میں یونس کی کی رہبری
خضر الیاس کے رہنما ہوگئے
اپنے مولیٰ کو مشہور کرنے کو تم
ساری دنیا کو پُر نور کرنے کو تم
سینے ایماں سے معمور کرنے کو تم
ظلمتیں کعبہ کی دور کرنے کو تم
دستِ موسیٰ میں بدرالدجیٰ ہوگئے
احمد مجتبیٰ شاہ عالی جناب
ہوئے جن و ملک آپ سے فیضیاب
جب ہوئے انبیا میں تمہیں انتخاب
تب دیا رحمتِ حق کا تم کو خطاب
پتلہ رحمتی سر تا پا ہوگئے
لائے تشریف جب شکل انسان میں
جوش پیدا ہوا تازہ ایمان میں
زلزلہ پڑگیا قصر ساسان میں
بجھ گئی آتش فارس ایک آن میں
جب کے تم ابر رحمت نما ہوگئے
شان خالق کی سب کو دکھا کر حضور
اور ملائک سے سجدہ کرا کر حضور
عرش کرسی غرض سب بنا کر حضور
ساتھ آدم کے دنیا میں آکر حضور
توبہ مقبول کن برملا ہوگئے
ہو تمہیں مصطفیٰ اور تمہیں مرتضیٰ
ہو تمہیں قایم ساجد باصفا
تمہیں اکبر تمہیں محسنِ با حیا
تمہیں واعظ کے چشمان دل کی جلا
اور وفاؔ کے لیے بوالعلا ہوگئے
- کتاب : Najat-e-Wafa (Pg. 04)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.