تضمینی کلام ـ جو سر سے پا تک ہے نورِ مطلق وہی ہے سرکار کا سراپا
تضمینی کلام ـ جو سر سے پا تک ہے نورِ مطلق وہی ہے سرکار کا سراپا
وفا اکبرآبادی
MORE BYوفا اکبرآبادی
دلچسپ معلومات
وفا اکبرآبادی نے حضرت شاہ اکبر داناپوری کی دو الگ الگ غزلوں کے اشعار کو یکجا کرکے یہ تضمین ترتیب دیا ہے، اس تضمین کا پہلا بند کتاب کے اوپری حصے کے پھٹ جانے کے باعث اوجھل ہوگیا ہے، اس بند کا صرف ایک مصرع باقی رہ گیا ہے جو حسبِ ذیل ہے۔ "بتوں نے سجدے کیے خدا کے، زبانوں پر اب خدا خدا ہے"
جو سر سے پا تک ہے نورِ مطلق وہی ہے سرکار کا سراپا
حسیں آہو شکار آنکھیں اور ان میں مازاغ کا سرا ہے
جبیں پہ والشمس کی تجلی اور اس پہ والیل کا ہے پردا
عجب صنعت کا ہے یہ پتلا اٹھا دو پردہ دکھا دو جلوہ
ادب اجازت اگر مجھے دے تو کہہ دوں کون آدمی بنا ہے
مرے مرے دل کا ہے مسیحا دکھے ہوئے دل کا آسرا ہے
جراحت زخم دل کا مرہم فراق کے درد کی دوا ہے
یہ ہے مصیبت زدوں کا ایماں یہ غم نصیبوں کا فیصلہ ہے
یہی وظیفہ ہے عاشقوں کا یہ ہم فقیروں کی بھی صدا ہے
گرہ کشائے دو عالم اکبر ہمارا پیارا ابوالعلا ہے
یہ آتشِ عشق بوالعلا ہے بجھائے سے بھی نہیں بجھے گی
یہ آگ وہ ہے جو حشر تک دل کی سرزمیں میں دبی رہے گی
میں مٹ بھی جاؤں گا مانتا ہوں مگر محبت نہیں مٹے گی
لگی ہے ایسی لگن کسی سے کہ مرنے پر بھی نہ چھٹ سکے گی
یہ عاشقی دل لگی نہیں جو ہم مٹے ہیں تو دل لگا ہے
نہ شور و شیون سے کام نکلا نہ کوئی فریاد کام آئی
مری دعاؤں کا یہ صلہ ہے یہ مرے اشکوں کی ہے کمائی
یہ خامشی نے اثر دکھایا وفا نے بگڑی مری بنائی
ہمارے دل نے کشش دکھائی وہی کشش تم کو کھینچ لائی
کروں کدھر کی طرف میں سجدہ کہ آج اجڑا مکاں بسا ہے
ہماری الفت کی روشنی میں تم اپنی طرز غم کو پر کھو
جفا کو اپنی وفا سمجھ کر ہی غم نصیبوں پہ عام کر دو
پھر اس دل باوفا کی صبر آزما تجلی کے رنگ دیکھو
ہمارے دل کا بھی رنگ دیکھو ملاؤ رنگِ حنا سے اس کو
اگر وہ رنگیں ہوئی ہے پس کر تو یہ بھی غم سے پسا ہوا ہے
غلام محسن ہوں اے وفاؔ میں بڑا نہیں اس سے کوئی منصب
نہ مجھ کو جنت سے کچھ غرض ہے نہ مجھ کو حوروں سے کچھ ہے مطلب
ابوالعلا کا ہو نام جاری دم نزع مرے لب پہ یا رب
ابوالعلائی ہے اپنا مشرب یہی ہے اکبرؔ ہمارا مذہب
ازل کے دن سے ہمارے دل پر لکھا ہوا نام ابوالعلا ہے
- کتاب : Yadgar-e-Mohsin (Pg. 08)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.