Font by Mehr Nastaliq Web

ہم بھی مدینے جائیں گے آج نہیں تو کل سہی

وقار احمد صدیقی

ہم بھی مدینے جائیں گے آج نہیں تو کل سہی

وقار احمد صدیقی

MORE BYوقار احمد صدیقی

    ہم بھی مدینے جائیں گے آج نہیں تو کل سہی

    آقا ہمیں بلائیں گے آج نہیں تو کل سہی

    ہم نے تو مان ہی لیا آپ ہیں روح کائنات

    لوگ بھی مان جائیں گے آج نہیں تو کل سہی

    عرش کہا ہے خود اسے سرورِ کائنات نے

    دل کو وہ دل بنائیں گے آج نہیں تو کل سہی

    ہم سے سوا ہیں بے قرار ان کی محیط رحمتیں

    آئیں گے یا بلائیں گے آج نہیں تو کل سہی

    ایک امید کی کرن ہیں میرے دل کی دھڑکنیں

    خواب میں آ ہی جائیں گے آج نہیں تو کل سہی

    ایک کرم کی ہے دلیل ان کے کرم کا اعتماد

    اشک بھی مسکرائیں گے آج نہیں تو کل سہی

    ان کا درِ سخا وقارؔ اب بھی کھلا ہوا تو ہے

    ہم بھی مراد پائیں گے آج نہیں تو کل سہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے