علیؑ مولائے رندانِ جہاں ہے
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف۔عراق)
علی مولائے رندانِ جہاں ہے
علی نورِ ہدیٰ کا رازداں ہے
علی شیدا محمد مصطفیٰ کا
علی گویا مکینِ لامکاں ہے
علی کی ضرب ہے ضربِ الٰہی
علی کا نام نصرت کا نشاں ہے
علی کے ہاتھ کو کہیے یداللہ
علی من کنت مولیٰ کا بیاں ہے
علی ہے کربلاؤں کی حقیقت
علی کی داستاں کیا داستاں ہے
علی ساجد علی مسجودِ ہستی
علی سجدوں کی عظمت کا نشاں ہے
علی کی یاد ہے ہستی بہاراں
علی سے بغض عرفاں کی خزاں ہے
علی شاہِ نجف شاہِ ولایت
علی مولیٰ امامِ ہر زماں ہے
علی غالب علیٰ ارض و سمٰوات
علی دامادِ شاہِ ہر جہاں ہے
علی مشکل کشا ظلِ نبوت
علی بابِ حقیقت بے گماں ہے
علی خیبر شکن شیرِ الٰہی
علی شرع و طریقت کا بیاں ہے
علی ہے رہنما ئے جن و آدم
علی لاریب میرِ کارواں ہے
علی نے دین کو سینچا لہو سے
علی باغِ نبی میں گلفشاں ہے
علی کی عین کے گوہر نرالے
علی خود معدن علم نہاں ہے
علی قادری علی قرآن ناطق
علی کا نور بر نوکِ سناں ہے
علی ہے ساقیِ تسنیم و کوثر
علی خود تشنہ لب تشنہ زباں ہَے
علی ہے لا فتیٰ لا سیف والا
علی لیکن رضا کا پاسباں ہے
علی کو میں علیٰ کہہ دوں و لیکن
علی سجدے میں خود تسبیح خواں ہے
علی کے فیض سے لاہور روشن
علی کے دم سے اجمیری نشاں ہے
علی کا نام ہے کلیر میں صابر
علی سے خسرو شیریں بیاں ہَے
علی کا ہی نظامِ دہلوی ہے
علی کی لاٹ ہی قطبی نشاں ہے
علی خواجہ فریدالدیں کی منزل
علی پاکِ پتن کی جانِ جاں ہے
علی کے نام سے مولائے رومی
علی تبریز کا سرِّ نہاں ہے
علی کا فقر ہے فخرِ محمد
علی لحمک لحمی جسم و جاں ہے
علی ہے کاشفِ رازِ حقیقت
علی وحدت میں اک کثرت نہاں ہے
علی ہے شارحِ شانِ نبوت
علی کا نام ہی حسنِ بیاں ہے
علی ہے مرکزِ پر کارِ ہستی
علی جب بھی جہاں ہے درمیاں ہے
علی سے اؤلیا کی زندگی ہے
علی کی ذات ہی روحِ رواں ہے
علی کی یاد ہے واصفؔ علی کو
علی خود اس زمیں کا آسماں ہے
- کتاب : شب چراغ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.