جنہیں تیرا نقش قدم ملا وہ غمِ جہاں سے نکل گئے
جنہیں تیرا نقش قدم ملا وہ غمِ جہاں سے نکل گئے
یہ میرے حضور کا فیض ہے کہ بھٹک کے ہم جو سنبھل گئے
پڑھو صلِ علیٰ نبینا صلِ علیٰ محمدٍ
پڑھو صلِ علیٰ شفیعنا صلِ علیٰ محمدٍ
ہو تیرے کرم کا جواب کیا تیری رحمتوں کا حساب کیا
تیرے نامِ نامی سے غم کدوں میں چراغ خوشیوں کے جل گئے
پڑھو صلِ علیٰ نبینا صلِ علیٰ محمدٍ
پڑھو صلِ علیٰ شفیعنا صلِ علیٰ محمدٍ
تو ہی کائنات کا راز ہے تیرا عشق میری نماز ہے
تیرے در کے سجدے مرے نبی میری زندگی کو بدل گئے
پڑھو صلِ علیٰ نبینا صلِ علیٰ محمدٍ
پڑھو صلِ علیٰ شفیعنا صلِ علیٰ محمدٍ
تو مصوری کا کمال ہے تو خدا کا حسنِ خیال ہے
جنہیں تیرا جلوہ عطا ہوا وہ ترے جمال میں ڈھل گئے
پڑھو صلِ علیٰ نبینا صلِ علیٰ محمدٍ
پڑھو صلِ علیٰ شفیعنا صلِ علیٰ محمدٍ
تھے ہزار صدیوں کے فاصلے جو رسولِ پاک نے طے کئے
وہ تو ایک رات کی بات تھی کہ زمانے جِس سے بدل گئے
پڑھو صلِ علیٰ نبینا صلِ علیٰ محمدٍ
پڑھو صلِ علیٰ شفیعنا صلِ علیٰ محمدٍ
یہ حلیمہ تجھ کو خبر نہ تھی کہ وہی زمانے کے تھے نبی
وہ خدا کے کتنے قریب تھے تیری گود میں جو بہل گئے
پڑھو صلِ علیٰ نبینا صلِ علیٰ محمدٍ
پڑھو صلِ علیٰ شفیعنا صلِ علیٰ محمدٍ
ترا بندہ واصفِؔ بے خبر ترا راز سمجھا ہے اس قدر
تجھے جب پکارا بہ چشمِ تر کئی مرحلے تھے جو ٹل گئے
پڑھو صلِ علیٰ نبینا صلِ علیٰ محمدٍ
پڑھو صلِ علیٰ شفیعنا صلِ علیٰ محمدٍ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.