Font by Mehr Nastaliq Web

چار سو نور کی برسات ہوئی آج کی رات

واصف علی واصف

چار سو نور کی برسات ہوئی آج کی رات

واصف علی واصف

MORE BYواصف علی واصف

    چار سو نور کی برسات ہوئی آج کی رات

    احد او ر احمد کی ملاقات ہوئی آج کی رات

    گفتگو ذات سے بالذات ہوئی آج کی رات

    مختصر یہ کہ بڑی بات ہوئی آج کی رات

    راکبِ وقت نے کھینچی ہے زمامِ گردش

    حیرتِ ارض و سماوات ہوئی آج کی رات

    یوں تو الطاف تھے سرکار پہ روزِ کن سے

    وا مگر چشمِ عنایات ہوئی آج کی رات

    رفعتِ عبد کو جبریلِ امیں نے دیکھا

    کیوں نہ ہو رافعِ درجات ہوئی آج کی رات

    پردۂ میم کے اندر ہے مقامِ محمود

    کاشفِ سرِ حجابات ہوئی آج کی رات

    قاب قوسین سے دو گام و راجا نکلا

    عقل والوں کو بڑی مات ہوئی آج کی رات

    جملہ ایام سے تابندہ ہے میلاد کا دن!

    جملہ راتوں سے حسیں رات ہوئی آج کی رات

    آج کی رات ہے عبادات کا ثمرہ واصفؔ

    حمد و تسبیح و مناجات ہوئی آج کی رات

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے