چار سو نور کی برسات ہوئی آج کی رات
چار سو نور کی برسات ہوئی آج کی رات
احد او ر احمد کی ملاقات ہوئی آج کی رات
گفتگو ذات سے بالذات ہوئی آج کی رات
مختصر یہ کہ بڑی بات ہوئی آج کی رات
راکبِ وقت نے کھینچی ہے زمامِ گردش
حیرتِ ارض و سماوات ہوئی آج کی رات
یوں تو الطاف تھے سرکار پہ روزِ کن سے
وا مگر چشمِ عنایات ہوئی آج کی رات
رفعتِ عبد کو جبریلِ امیں نے دیکھا
کیوں نہ ہو رافعِ درجات ہوئی آج کی رات
پردۂ میم کے اندر ہے مقامِ محمود
کاشفِ سرِ حجابات ہوئی آج کی رات
قاب قوسین سے دو گام و راجا نکلا
عقل والوں کو بڑی مات ہوئی آج کی رات
جملہ ایام سے تابندہ ہے میلاد کا دن!
جملہ راتوں سے حسیں رات ہوئی آج کی رات
آج کی رات ہے عبادات کا ثمرہ واصفؔ
حمد و تسبیح و مناجات ہوئی آج کی رات
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.