کسی راہبر کی تلاش ہے نہ ہی ہم سفر کی تلاش ہے
کسی راہبر کی تلاش ہے نہ ہی ہم سفر کی تلاش ہے
وہ نظر جو میری نظر ہوتی مجھے اس نظر کی تلاش ہے
تو خبر کے دام میں آگیا کہ جو مبتلائے گماں ہوا!
میں نکل گیا سوئے لامکاں یہ مری نظر کی تلاش ہے
مجھے منزلوں کی طلب نہیں کبھی ہوتی ہوگی یہ اب نہیں
جو ترے خیال میں کھو گئی اسی چشمِ تر کی تلاش ہے
ترا غم ہی چارہ ساز ہے ترا عشق ہی نماز ہے
کھلا جب سے راز مجاز ہے کسی چارہ گر کی تلاش ہے
ہوں چراعِ داغ بنا ہوا سرِ شام جلتا ہوں شوق سے
مِرے پاس آئیں گے وہ کبھی جنہیں اک سحر کی تلاش ہے
نہ فراق کی مجھے ہے خبر نہ خیال عرض وصال ہے
میں جبینِ شوق ضرور ہوں تیرے سنگِ در کی تلاش ہے
میں وہی ہوں واصفِؔ بے ہنر تری یاد میں ہوا در بدر
کی فنا بقا کی نہیں خبر تری راہ گزر کی تلاش ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.