Font by Mehr Nastaliq Web

کسی راہبر کی تلاش ہے نہ ہی ہم سفر کی تلاش ہے

واصف علی واصف

کسی راہبر کی تلاش ہے نہ ہی ہم سفر کی تلاش ہے

واصف علی واصف

MORE BYواصف علی واصف

    کسی راہبر کی تلاش ہے نہ ہی ہم سفر کی تلاش ہے

    وہ نظر جو میری نظر ہوتی مجھے اس نظر کی تلاش ہے

    تو خبر کے دام میں آگیا کہ جو مبتلائے گماں ہوا!

    میں نکل گیا سوئے لامکاں یہ مری نظر کی تلاش ہے

    مجھے منزلوں کی طلب نہیں کبھی ہوتی ہوگی یہ اب نہیں

    جو ترے خیال میں کھو گئی اسی چشمِ تر کی تلاش ہے

    ترا غم ہی چارہ ساز ہے ترا عشق ہی نماز ہے

    کھلا جب سے راز مجاز ہے کسی چارہ گر کی تلاش ہے

    ہوں چراعِ داغ بنا ہوا سرِ شام جلتا ہوں شوق سے

    مِرے پاس آئیں گے وہ کبھی جنہیں اک سحر کی تلاش ہے

    نہ فراق کی مجھے ہے خبر نہ خیال عرض وصال ہے

    میں جبینِ شوق ضرور ہوں تیرے سنگِ در کی تلاش ہے

    میں وہی ہوں واصفِؔ بے ہنر تری یاد میں ہوا در بدر

    کی فنا بقا کی نہیں خبر تری راہ گزر کی تلاش ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے