Font by Mehr Nastaliq Web

اپنے دیس میں میں پردیسی اپنے گھر میں میں مہمان

واصف علی واصف

اپنے دیس میں میں پردیسی اپنے گھر میں میں مہمان

واصف علی واصف

MORE BYواصف علی واصف

    اپنے دیس میں میں پردیسی اپنے گھر میں میں مہمان

    روپ انوکھے یاد تری کے تو چاہے اب مان نہ مان

    بستی بستی جنگل صحرا تجھ کو ساجن ڈھونڈا ہے

    ہر چہرے پر آنکھ ہے میری ہر آہٹ پر میرے کان

    دیر و حرم کی سرحد سے ہے دور تمہارا دیس پیا

    شاہ رگ سے نزدیک مِلا ہے کل یوم ھو فی شان

    شمس و قمر میں تیرے جلوے ارض و سما میں نور ترا

    پتھر کانپے نام سے تیرے نجم و شجر ہیں یسجدان

    وحدت کثرت کثرت وحدت کھیل پرانا آنکھ مچولی

    خو دکو اپنی آنکھ سے دیکھے ہم سے کیسی جان پہچان

    سانس کی آری کاٹ رہی ہے عمر کا سایہ دار درخت

    یہ بستی بسنے کی نہیں ہے کوچ کا کر لیجے سامان

    یثرب دولہا کے سنگ ہولی ہر دم کھیلے الرحمٰن

    یٰسین و حٰم مزمل طٰۂ نور والقرآن

    واصفؔ بیچارہ کیا بولے بھید تمہارا کیوں کر کھولے

    تو کیا ہے تو خود ہی جانے یا جانے ناطق قرآن

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے