اپنے دیس میں میں پردیسی اپنے گھر میں میں مہمان
اپنے دیس میں میں پردیسی اپنے گھر میں میں مہمان
روپ انوکھے یاد تری کے تو چاہے اب مان نہ مان
بستی بستی جنگل صحرا تجھ کو ساجن ڈھونڈا ہے
ہر چہرے پر آنکھ ہے میری ہر آہٹ پر میرے کان
دیر و حرم کی سرحد سے ہے دور تمہارا دیس پیا
شاہ رگ سے نزدیک مِلا ہے کل یوم ھو فی شان
شمس و قمر میں تیرے جلوے ارض و سما میں نور ترا
پتھر کانپے نام سے تیرے نجم و شجر ہیں یسجدان
وحدت کثرت کثرت وحدت کھیل پرانا آنکھ مچولی
خو دکو اپنی آنکھ سے دیکھے ہم سے کیسی جان پہچان
سانس کی آری کاٹ رہی ہے عمر کا سایہ دار درخت
یہ بستی بسنے کی نہیں ہے کوچ کا کر لیجے سامان
یثرب دولہا کے سنگ ہولی ہر دم کھیلے الرحمٰن
یٰسین و حٰم مزمل طٰۂ نور والقرآن
واصفؔ بیچارہ کیا بولے بھید تمہارا کیوں کر کھولے
تو کیا ہے تو خود ہی جانے یا جانے ناطق قرآن
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.