اب بیت گیا وعدے کا دن اب رات جدائی کی آئی
اب بیت گیا وعدے کا دن اب رات جدائی کی آئی
ہر اشک تیری تصویر بنا میں کیسے کہوں تو ہر جائی
یہ تیرے کرم کا صدقہ ہے یہ تیری نظر کا ہے جادو
ہے دل میں ترا سودا جب سے کہتے ہیں مجھے سب سودائی
ہر سانس میں تیرا نام لیا ہر بار پکارا ہے تجھ کو!
ہے یاد تری نس نس میں بسی تو ملجائی تو ماوائی
اک عمر تری راہوں میں چلے ہر گام پہ تیرے دیپ جلے
رستے نہ کٹے لمبے تھے بڑے لیکن نہ طبیعت گھبرائی
واصفؔ کو ملا ہے رازِ بقا اب خاک نشیں ہونا ہی پڑا
جب فیضِ نظر مولیٰ کا ہوا کہتے ہیں مجھے سب مولائی
- کتاب : shab-e-raaz (Pg. 149)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.