Font by Mehr Nastaliq Web

اب بیت گیا وعدے کا دن اب رات جدائی کی آئی

واصف علی واصف

اب بیت گیا وعدے کا دن اب رات جدائی کی آئی

واصف علی واصف

MORE BYواصف علی واصف

    اب بیت گیا وعدے کا دن اب رات جدائی کی آئی

    ہر اشک تیری تصویر بنا میں کیسے کہوں تو ہر جائی

    یہ تیرے کرم کا صدقہ ہے یہ تیری نظر کا ہے جادو

    ہے دل میں ترا سودا جب سے کہتے ہیں مجھے سب سودائی

    ہر سانس میں تیرا نام لیا ہر بار پکارا ہے تجھ کو!

    ہے یاد تری نس نس میں بسی تو ملجائی تو ماوائی

    اک عمر تری راہوں میں چلے ہر گام پہ تیرے دیپ جلے

    رستے نہ کٹے لمبے تھے بڑے لیکن نہ طبیعت گھبرائی

    واصفؔ کو ملا ہے رازِ بقا اب خاک نشیں ہونا ہی پڑا

    جب فیضِ نظر مولیٰ کا ہوا کہتے ہیں مجھے سب مولائی

    مأخذ :
    • کتاب : shab-e-raaz (Pg. 149)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے