Font by Mehr Nastaliq Web

تو کرے ستم ہے ستم کرم

واصف علی واصف

تو کرے ستم ہے ستم کرم

واصف علی واصف

MORE BYواصف علی واصف

    تو کرے ستم ہے ستم کرم

    تو صنم ہری میں ہری صنم

    من و تو سے بحث نہیں مجھے

    تیرا غم ہوا ہے مرا ہی غم

    تیرے جلوہ ہائے قدیم نے

    کیا ہر حدوث کو ہے قدم

    کہ نہاں عیاں ہے عیاں نہاں

    ہمہ آئینم ہمہ صورتم

    تیری یاد میری نماز ہے

    میرا سر جھکا ہے صنم صنم

    تیری زلف ہائے دراز کا

    میں ایازِ ناز بنا ہوں خم!

    تیرے میکدے کا میں راز ہوں

    تیرے میکشوں کا میں جامِ جم

    ہے فنا بقا کی کہاں خبر

    کہ جنم ہی موت کا ہے جنم

    یہ تیرے کرم کا ہے فیصلہ

    کہ میں شاہ بازِ قلندرم

    میں وہی ہوں واصفؔ بے خبر

    کہ نہ کم نہ بیش نہ بیش نہ کم

    مأخذ :
    • کتاب : shab-e-raaz (Pg. 165)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے