تو کرے ستم ہے ستم کرم
تو کرے ستم ہے ستم کرم
تو صنم ہری میں ہری صنم
من و تو سے بحث نہیں مجھے
تیرا غم ہوا ہے مرا ہی غم
تیرے جلوہ ہائے قدیم نے
کیا ہر حدوث کو ہے قدم
کہ نہاں عیاں ہے عیاں نہاں
ہمہ آئینم ہمہ صورتم
تیری یاد میری نماز ہے
میرا سر جھکا ہے صنم صنم
تیری زلف ہائے دراز کا
میں ایازِ ناز بنا ہوں خم!
تیرے میکدے کا میں راز ہوں
تیرے میکشوں کا میں جامِ جم
ہے فنا بقا کی کہاں خبر
کہ جنم ہی موت کا ہے جنم
یہ تیرے کرم کا ہے فیصلہ
کہ میں شاہ بازِ قلندرم
میں وہی ہوں واصفؔ بے خبر
کہ نہ کم نہ بیش نہ بیش نہ کم
- کتاب : shab-e-raaz (Pg. 165)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.