کانپ اٹھے عاصی صفِ محشر کا نقشا دیکھ کر
کانپ اٹھے عاصی صفِ محشر کا نقشا دیکھ کر
منفعل ہیں نامہ اعمال اپنا دیکھ کر
آئینہ حیران تھا روئے مصفا دیکھ کر
حسن ششدر رہ گیا رخ آئینہ کا دیکھ کر
مرحبا میری جبین شوق کا ذوق سجود
بے محابا جھک گئی نقشِ کف پا دیکھ کر
دوش پر موجیں لیے پھرتی ہیں کشتی کو مری
غرقِ طوفاں کرنہ دیں یہ بے سہارا دیکھ کر
شانِ محبوبی کے دل کی یارؔ کلیاں کھل گئیں
لامکاں میں شاہد و مشہود یکجا دیکھ کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.