آتشِ عشق کلیجے میں دبی رہتی ہے
دلچسپ معلومات
تضمینی کلام۔
آتشِ عشق کلیجے میں دبی رہتی ہے
تو نے جس دن سے لگائی ہے لگی رہتی ہے
تیری صورت میری آنکھوں میں بسی رہتی ہے
خوب جلوؤں کی ترے جلوہ گری رہتی ہے
بات بگڑی ہوئی ہر وقت بنی رہتی ہے
آتشِ عشق کلیجے میں دبی رہتی ہے
تو نے جس دن سے لگائی ہے لگی رہتی ہے
میرے دل سے کوئی پوچھے کہ محبت کیا ہے
وصل کیا چیز ہے شامِ شبِ فرقت کیا ہے
درد کہتے ہیں کِسے درد کی لذت کیا ہے
آتشِ عشق کلیجے میں دبی رہتی ہے
تونے جس دن سے لگائی ہے لگی رہتی ہے
تیرے الطاف کی اکرام کی شفقت کی قسم
میرے محبوب تری طرز عنایت کی قسم
تو نے عزت جو مجھے دی ہے اس عزت کی قسم
آتشِ عشق کلیجے میں دبی رہتی ہے
تونے جس دن سے لگائی ہے لگی رہتی ہے
شکرِ ایزد نہ رہی کوئی بھی باقی مشکل
باتوں باتوں میں ہوئی دل کی تمنا حاصل
اب کہاں جاتا ہے اٹھ کر ترے در سے سائل
آتشِ عشق کلیجے میں دبی رہتی ہے
تو نے جس دن سے لگائی ہے لگی رہتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.