Font by Mehr Nastaliq Web

آتشِ عشق کلیجے میں دبی رہتی ہے

یوسف اجمیری

آتشِ عشق کلیجے میں دبی رہتی ہے

یوسف اجمیری

MORE BYیوسف اجمیری

    دلچسپ معلومات

    تضمینی کلام۔

    آتشِ عشق کلیجے میں دبی رہتی ہے

    تو نے جس دن سے لگائی ہے لگی رہتی ہے

    تیری صورت میری آنکھوں میں بسی رہتی ہے

    خوب جلوؤں کی ترے جلوہ گری رہتی ہے

    بات بگڑی ہوئی ہر وقت بنی رہتی ہے

    آتشِ عشق کلیجے میں دبی رہتی ہے

    تو نے جس دن سے لگائی ہے لگی رہتی ہے

    میرے دل سے کوئی پوچھے کہ محبت کیا ہے

    وصل کیا چیز ہے شامِ شبِ فرقت کیا ہے

    درد کہتے ہیں کِسے درد کی لذت کیا ہے

    آتشِ عشق کلیجے میں دبی رہتی ہے

    تونے جس دن سے لگائی ہے لگی رہتی ہے

    تیرے الطاف کی اکرام کی شفقت کی قسم

    میرے محبوب تری طرز عنایت کی قسم

    تو نے عزت جو مجھے دی ہے اس عزت کی قسم

    آتشِ عشق کلیجے میں دبی رہتی ہے

    تونے جس دن سے لگائی ہے لگی رہتی ہے

    شکرِ ایزد نہ رہی کوئی بھی باقی مشکل

    باتوں باتوں میں ہوئی دل کی تمنا حاصل

    اب کہاں جاتا ہے اٹھ کر ترے در سے سائل

    آتشِ عشق کلیجے میں دبی رہتی ہے

    تو نے جس دن سے لگائی ہے لگی رہتی ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے