مست رسیلی نظروں والے نیچے نیچے دامن والے
دلچسپ معلومات
تضمینی کلام۔ منقبت در شان خواجہ معین الدین چشتی (اجمیر-راجستھان)
مست رسیلی نظروں والے نیچے نیچے دامن والے
رنگِ اثر سے خالی کب تک یوں ہی رہیں گے میرے نالے
میں بھی کر لوں درشن تیرا رخ سے پردہ اب تو ہٹا لے
ندّیا اگم ہے رین اندھیری چھائے ہیں بدرا کالے کالے
ڈوب نہ جائے موری نیا خواجہ پیارے آکے بچالے
سکھ ہے تیرا صبح تجلی بول ہیں تیرے پیارے پیارے
تجھ پرقرباں ماہِ منور تجھ پر صدقے انجم سارے
آج کرم کی بارش کردے قادر جی کے راج دلارے
ندیا اگم ہے رین اندھیری چھائے ہیں بدرا کالے کالے
ڈوب نہ جائے موری نیا خواجہ پیارے آکے بچالے
بگڑی موری آج بنا دے غوث کی مسند تجھ کو ملی ہے
کون سی شئے ہے آخر ایسی جس کی تیرے پاس کمی ہے
ٹوٹے دل کا تو ہے سہارا تجھ سے موری آس لگی ہے
ندیا اگم ہے رین اندھیری چھائے ہیں بدرا کالے کالے
ڈوب نہ جائے موری نیا خواجہ پیارے آکے بچالے
راہ کٹھن دشوار ہے چلنا کوئی نہ ساتھی کوئی نہ رہبر
کِس کو جا کر حال سنائے یوسفؔ سیوک تیرا ہو کر
تجھ سے بگڑی بات بنے گی تو ہے مونس تو ہے یاور
ندیا اگم ہے رین اندھیری چھائے ہیں بدرا کالے کالے
ڈوب نہ جائے موری نیا خواجہ پیارے آکے بچا لے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.