تم اس سے بھی بہت آ گے ہو اے محبوبِ سبحانی
دلچسپ معلومات
تضمینی کلام۔ منقبت در شان شیخ عبدالقادر جیلانی (بغداد-عراق)
غلاموں نے تمہارے کب تمہاری شان پہچانی
ملائک کرتے ہیں آقا تمہارے در کی دربانی
جہاں پر ختم ہوتی ہے حدِ تخئیلِ انسانی
جہاں حورانِ جنت کی جھکی رہتی ہے پیشانی
تم اس سے بھی بہت آ گے ہو اے محبوبِ سبحانی
غریبوں کے معاون بے سہاروں کے سہارے ہو
علی کے لاڈلے حسنین کے آنکھوں کے تارے ہو
رسولِ ہاشمی محبوبِ داور کے دلارے ہو
خلاصہ یہ خداوند دو عالم کے بھی پیارے ہو
تمہاری شان کے شایاں ہے آقا تاج سلطانی
چنے ہیں پھول دامن میں وہ گلزار محمد سے
اٹھایا ہے وہ فیضِ خاص دیدارِ محمد سے
ملا ہے خیر سے رتبہ وہ دربارِ محمد سے
وہ دولت پائی ہے آقا نے سرکار محمد سے
جسے چاہیں عطا کر دیں شہنشاہی و سلطانی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.