تقدیرِ زمن باندھے ہوئے ہاتھ کھڑی ہے
تقدیرِ زمن باندھے ہوئے ہاتھ کھڑی ہے
کیا شانِ غلامانِ رسولِ عربی ہے
اے مہرِ عرب، ماہِ عجم، شمعِ دو عالم
اعجاز ترا، دہر میں ظلمت شکنی ہے
آیا ہے وہیں جوش میں رحمت کا سفینہ
مجبور نے جس وقت دہائی تری دی ہے
پھر کفر ہے ایمان سے آمادۂ پیکار
اے ہادی و مرسل! یہ ہدایت کی گھڑی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.