Font by Mehr Nastaliq Web

لذت جامِ ولا سے جو بھی بے بہرہ رہے

ظفر عباس نقوی

لذت جامِ ولا سے جو بھی بے بہرہ رہے

ظفر عباس نقوی

MORE BYظفر عباس نقوی

    لذت جامِ ولا سے جو بھی بے بہرہ رہے

    لاکھ دریا بھی اگر پی لے تو وہ پیاسا رہے

    تو بھی کہہ دے گا حسن کی صلح کو فتحِ مبیں

    ہاں اگر پیشِ نظر صلحِ حدیبیہ رہے

    عشقِ آلِ مصطفیٰ فرزانگی کی ہے دلیل

    اس کو دیوانہ نہ کہہ ان کا جود یوانہ رہے

    آنکھ کی بینائی ایماں پر نہیں ہرگز دلیل

    شرط ایماں ہے کہ انساں قلب کا بینا رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے