لذت جامِ ولا سے جو بھی بے بہرہ رہے
لذت جامِ ولا سے جو بھی بے بہرہ رہے
لاکھ دریا بھی اگر پی لے تو وہ پیاسا رہے
تو بھی کہہ دے گا حسن کی صلح کو فتحِ مبیں
ہاں اگر پیشِ نظر صلحِ حدیبیہ رہے
عشقِ آلِ مصطفیٰ فرزانگی کی ہے دلیل
اس کو دیوانہ نہ کہہ ان کا جود یوانہ رہے
آنکھ کی بینائی ایماں پر نہیں ہرگز دلیل
شرط ایماں ہے کہ انساں قلب کا بینا رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.