یہ جو حسنِ خیال ہے آقا
یہ جو حسنِ خیال ہے آقا
تیرا فیضِ جمال ہے آقا
جس میں جتنی ہیں خوبیاں یکسر
آپ ہی کا کمال ہے آقا
سیرتِ نور کی ہے تابانی
یہ جو حسنِ خصال ہے آقا
جو بھی دنیا میں سچ کی دولت ہے
تیرا عکسِ مقال ہے آقا
یہ جو تاروں میں جگمگاہٹ ہے
تیری گردِ نعال ہے آقا
تیری راہوں کا ایک اک ذرّہ
آفتابِ جمال ہے آقا
دونوں عالم میں بٹ رہا ہے جو
تیرا جود و نوال ہے آقا
آبِ زم زم ہو یا کہ کوثر ہو
سب لعابِ زلال ہے آقا
اپنی رحمت کی اک نظر ڈالیں
غم سے امت نڈھال ہے آقا
سب کے ہاتھوں میں تیر دیکھے ہیں
تیری رحمت ہی ڈھال ہے آقا
کب اٹھیں گے عروج کی جانب
کب سے لاحق زوال ہے آقا
تیرا نوریؔ بھی کوئی نعت کہے
بے عنایت محال ہے آقا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.