Font by Mehr Nastaliq Web

نگاہوں میں چمکتا ہے یہ منظر سبز گنبد کا

ظفر اقبال نوری

نگاہوں میں چمکتا ہے یہ منظر سبز گنبد کا

ظفر اقبال نوری

MORE BYظفر اقبال نوری

    نگاہوں میں چمکتا ہے یہ منظر سبز گنبد کا

    مرے دل میں دمکتا ہے یہ منظر سبز گنبد کا

    بہارِ جاں فزا کہیے نگارِ دل ستاں کہیے

    خیالوں میں مہکتا ہے یہ منظر سبز گنبد کا

    ریاضِ جاں میں کھلتے ہیں حسیں موسم گلابوں کے

    بہشت آثار لگتا ہے یہ منظر سبز گنبد کا

    خدا کے نور کے جلوے فرازِ طور کے لمعے

    بہ ہر لحظہ نکھرتا ہے یہ منظر سبز گنبد کا

    طلوعِ فجر کا منظر جہاں بھر سے سہانا ہے

    عجب صورت سنورتا ہے یہ منظر سبز گنبد کا

    مہک اٹھتی ہے جذبوں سے حرائے جاں کی تنہائی

    بصد نکہت ابھرتا ہے یہ منظر سبز گنبد کا

    سرورِ قلب و سینہ ہے تجلی ان فضاؤں کی

    قرارِ جاں ٹھہرتا ہے یہ منظر سبز گنبد کا

    جھڑی آنکھوں سے لگتی ہے گنہ کے میل دھلتے ہیں

    کرم بن کر برستا ہے یہ منظر سبز گنبد کا

    اسی کی چھاؤں میں نوریؔ پیامِ موت آ جائے

    کہ دل بن کر دھڑکتا ہے یہ منظر سبز گنبد کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے