Font by Mehr Nastaliq Web

یہ جو عشاق ترے طیبہ میں آئے ہوئے ہیں

ظفر اقبال نوری

یہ جو عشاق ترے طیبہ میں آئے ہوئے ہیں

ظفر اقبال نوری

MORE BYظفر اقبال نوری

    یہ جو عشاق ترے طیبہ میں آئے ہوئے ہیں

    اپنی تقدیر ترے در پہ جگائے ہوئے ہیں

    ہم سے ناکارہ و مجرم بھی ہیں مہمانوں میں

    اور کچھ خاص ترے پیارے بھی آئے ہوئے ہیں

    یہ تری آل کے گوہر یہ ترے نورِ نظر

    بندہ پرور ہیں ہمیں ساتھ جو لائے ہوئے ہیں

    کیسی چاہت ہے محبت ہے ادب ہے ان میں

    اپنی آنکھیں ترے گنبد پہ جمائے ہوئے ہیں

    کون لائے گا بھلا ان کی بصیرت کا جواب

    خاکِ رہ تیری جو آنکھوں میں لگائے ہوئے ہیں

    یہ تصور ہے مرا میں ہوں انہیں میں شامل

    وہ جو قسمت سے ترے شہر میں آئے ہوئے ہیں

    دور بیٹھا ہوا نوریؔ بھی ہے دیدادر طلب

    ان کا نوکر جو ترے آپ بلائے ہوئے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے