Font by Mehr Nastaliq Web

جس نے یادوں میں ہمیں عرشِ خدا پر رکھا

ظفر اقبال نوری

جس نے یادوں میں ہمیں عرشِ خدا پر رکھا

ظفر اقبال نوری

MORE BYظفر اقبال نوری

    جس نے یادوں میں ہمیں عرشِ خدا پر رکھا

    ہم نے مشکل میں اسے حامی و یاور رکھا

    خیرہ کرتے بھی تو کیسے ہمیں مغرب کے چراغ

    سامنے ہم نے ہمیشہ رخِ دلبر رکھا

    جان سرکار کے قدموں پہ نچھاور کردی

    دل بھی سرکار کی راہوں میں بچھا کر رکھا

    تجھ کو چاہا تجھے سوچا تجھے لکھا برسوں

    دید کی پیاس کو اکثر لبِ ساغر رکھا

    میری اوقات ہی کیا ہے کہ تری نعت کہوں

    تیری رحمت نے مجھے تیرا ثنا گر رکھا

    گر چہ ہم آن بسے غرب کی دنیا میں ظفرؔ

    رشتہ آقا سے غلامی کا برابر رکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے