Font by Mehr Nastaliq Web

کعبہ سیاہ پوش ہے کس کے فراق میں

ظفر اقبال نوری

کعبہ سیاہ پوش ہے کس کے فراق میں

ظفر اقبال نوری

MORE BYظفر اقبال نوری

    کعبہ سیاہ پوش ہے کس کے فراق میں

    اسود جمال زاد ہے کس طرح طاق میں

    کعبے کی داستان ہو کیسے نہ دل ربا

    آتا ہے تیرا نام سیاق و سباق میں

    کیوں کر مطاف میں ہے اجالوں کا رتجگا

    ہے کس کا نام رکھا ہوا دل کے طاق میں

    لمسِ لبِ حبیب کی سر مستی دیکھیے

    زم زم رواں ہے آج بھی کس اشتیاق میں

    وردِ زباں درود ہو ذکرِ خدا کے ساتھ

    پھر تو کمال لطف ہو اس انطباق میں

    کعبے پہ ہو نگاہ تو دل میں ترا خیال

    کیسا سرور و کیف ہو اس اتفاق میں

    آقا ترے حضور بھی آئے ترا ظفرؔ

    لائے گلاب نعت کے طشتِ وراق میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے