Font by Mehr Nastaliq Web

سرور و کیف میں ڈوبا ہو دیدہ دیدۂ دل

ظفر اقبال نوری

سرور و کیف میں ڈوبا ہو دیدہ دیدۂ دل

ظفر اقبال نوری

MORE BYظفر اقبال نوری

    سرور و کیف میں ڈوبا ہو دیدہ دیدۂ دل

    ثنا و نعت میں رہتا ہو ریشہ ریشۂ دل

    انہی کی بات کی خوشبو ہی لفظ لفظ میں ہو

    انہی کی یاد سے مہکا ہو گوشہ گوشۂ دل

    خیالِ طیبہ میں رہتے ہوں ہم نفس سارے

    بسائے رکھتے ہوں ایسے وہ خیمہ خیمۂ دل

    ثنا کی لہر زمانے میں اس طرح چھائے

    صدا ہو نعت کی ہر سو بہ قریہ قریۂ دل

    انہی کے حسن کا چرچہ ہو جابجا پیہم

    انہی کے شوق میں چلتا ہو رحلہ رحلۂ دل

    صبا مدینے سے کوئی خبر تو لائی ہے

    کھلا کھِلا سا جو لگتا ہے غنچہ غنچۂ دل

    تمام ہونے کو نوریؔ ہے دھڑکنوں کا سفر

    انہی کی یاد میں زندہ ہے لحظہ لحظۂ دل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے