Font by Mehr Nastaliq Web

طوطیٔ ہندوستاں اے خسرو عالی مقام

ظہیر احمد صدیقی

طوطیٔ ہندوستاں اے خسرو عالی مقام

ظہیر احمد صدیقی

MORE BYظہیر احمد صدیقی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)

    طوطیٔ ہندوستاں اے خسرو عالی مقام

    تجھ کو اہلِ ہند کے حسنِ عقیدت کا سلام

    عزت و اکرام تھے تیری جلو میں صف بہ صف

    تجھ کو حاصل تھا محمد کی غلامی کا شرف

    خواجۂ اجمیر کے جلووں کا آئینہ تھا تو

    جاودانی علم روحانی کا گنجینہ تھا تو

    خاک کو اکسیر کر دیتی تھی تیری اک نظر

    تیرا دل داتا کے گنج فیض سے تھا بہرہ ور

    حلقۂ محبوب میں تھا کون تجھ سا سرفراز

    کون تھا ایسا کہ بندہ ہو کے تھا بندہ نواز

    زندگی میں کس کو یہ توقیر یہ خوبی ملی

    اور کس کو بزمِ محبوبی میں محبوبی ملی

    گوشہ گوشہ فیض کے انوار سے معمور تھا

    دل نہیں تھا تیرے سینے میں چراغِ طور تھا

    گلستانِ عشق کو دل کا لہو تو نے دیا

    آدمی کو سوز و ساز آزو تو نے دیا

    ساری دنیا سے انوکھی نَے نوازی تھی تری

    راگ تھے ہندوستاں کے لَے حجازی تھی تری

    خدمت انسانیت تھی بندگی تیرے لیے

    ایک تھی دیر و حرم کی روشنی تیرے لیے

    فکر تیری فکر نو کا نقطۂ آغاز ہے

    ذات پر تیری ترے ہندوستاں کو ناز ہے

    ذہنِ انساں کو نئی آب و ہوا تجھ سے ملی

    رام و گوتم کے ترانوں کو نوا تجھ سے ملی

    تھی ترے زیب گلو تسبیح بھی زنار بھی

    تیری بزمِ نور میں کافر بھی تھے دیندار بھی

    ہر گھڑی تو حال میں اپنے رہا کرتا تھا مست

    کیا ہوا کہتی تھی گر دنیا کہ تو ہے بت پرست

    آدمیت تیرا مشرب دوستی تیرا پیام

    با مسلماں اللہ اللہ با برہمن رام رام

    محترم تیرے لیے گیتا بھی اور قرآن بھی

    کافر عشق و وفا بھی صاحبِ ایمان بھی

    تیرا شیوہ کینہ و بغض و تعصب سے جہاد

    تیرا مسلک اتحاد و اتحاد و اتحاد

    تو امر ہے حشر تک زندہ رہے گا تیرا نام

    تجھ کو اہلِ ہند کے حسنِ عقیدت کا سلام

    طوطیٔ ہندوستاں اے خسرو عالی مقام

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 50)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے