Font by Mehr Nastaliq Web

یہی علامتِ عز و وقارِ خسرو ہے

ظہیر غازی پوری

یہی علامتِ عز و وقارِ خسرو ہے

ظہیر غازی پوری

MORE BYظہیر غازی پوری

    یہی علامتِ عز و وقارِ خسرو ہے

    کہ ہر نگارشِ فن شاہکارِ خسرو ہے

    غزل بھی نعت بھی دوہا بھی گیت بھی اب تک

    دیارِ ہند میں آئینہ دارِ خسرو ہے

    وسیلۂ نگہ و فکر ہے زمانے میں

    ادب کدے میں جو نقش و نگارِ خسرو ہے

    صدا و صوت کا کوچہ رباب و چنگ کا گھر

    طلسم زار، بشوق و شعارِ خسرو ہے

    غزل کی صنف ہو یا ہو پہیلیوں کی نمود

    دیارِ شعر میں اک یادگارِ خسرو ہے

    خلیج صدیوں کی حائل ہے درمیاں میں مگر

    دلوں میں اب بھی وہی افتخارِ خسرو ہے

    ہر ایک لفظ میں پیغام حق ہے پوشیدہ

    نیاز مندِ خرد، کار و بارِ خسرو ہے

    جہاں چھلک پڑا عرفان و آگہی کا جام

    وہ بت کدہ ،حرمِ اعتبارِ خسرو ہے

    وطن کے عشق سے عرانِ ذات تک دیکھا

    بہت بسیط حدِ اختیارِ خسرو ہے

    خدا رسیدہ بزرگوں کی بات جب آئے

    تو فرد فرد یہاں اشک بارِ خسرو ہے

    زبان و فکر و نظریات ہیں الگ تو کیا

    ہر ایک شخص یہاں جاں نثارِ خسرو ہے

    نظامِ جبر سے جمہوریت کی قدروں تک

    ادا شناسِ زمانہ، دیارِ خسرو ہے

    ہزار فن و ادب کی بڑھی ہو نا قدری

    جو اہلِ فکر و نظر ہے، وہ یارِ خسرو ہے

    اجڑ اجڑ کے بسی ہے جو بارہا دلی

    وہیں امانتِ مشتِ غبارِ خسرو ہے

    گناہ گارِ ادب لوگ جس کو کہتے ہیں

    وہی ظہیرِؔ حزیں ،رازدارِ خسرو ہے

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 58)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے