حقیقت میں وہی شیدا ہے شیدا شاہِ قاتل کا
دلچسپ معلومات
نوٹ: حضرت قاتلؔ اجمیری کے چہلم کے موقع پر عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں ضیاؤالقادری بدایونی کی صدارت میں ایک طرحی مشاعرہ منعقد ہوا، جس کے لیے مصرعِ طرح ’’مریدوں کے لیے کعبہ ہے روضہ شاہِ قاتل کا‘‘ سیمابؔ اکبرآبادی نے اپنے زمانۂ علالت میں پیش کیا۔
حقیقت میں وہی شیدا ہے شیدا شاہِ قاتل کا
کہ جس پردین و دنیا میں ہے سایہ شاہِ قاتل کا
یہ نکتہ عین حق ہے جھوٹ کا پہلو نہیں اس میں
مریدوں کے لیے کعبہ ہے روضہ شاہِ قاتل کا
خزانے دولتِ عرفاں کے آکر لوٹ لیں طالب
کہ دامن ابرِ رحمت بن کے چھایا شاہِ قاتل کا
ہمارے دیدۂ بینا کو حیرانی ہے حیرانی
نظر آیا ہمیں ہر سمت جلوہ شاہِ قاتل کا
تمنا ہے یہی زیبا ؔکے قلب زار میں یا رب
رہے سایہ مریدوں پر ہمیشہ شاہِ قاتل کا
- کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 30)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.