Font by Mehr Nastaliq Web

حقیقت میں وہی شیدا ہے شیدا شاہِ قاتل کا

زیبا میرٹھی

حقیقت میں وہی شیدا ہے شیدا شاہِ قاتل کا

زیبا میرٹھی

MORE BYزیبا میرٹھی

    دلچسپ معلومات

    نوٹ: حضرت قاتلؔ اجمیری کے چہلم کے موقع پر عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں ضیاؤالقادری بدایونی کی صدارت میں ایک طرحی مشاعرہ منعقد ہوا، جس کے لیے مصرعِ طرح ’’مریدوں کے لیے کعبہ ہے روضہ شاہِ قاتل کا‘‘ سیمابؔ اکبرآبادی نے اپنے زمانۂ علالت میں پیش کیا۔

    حقیقت میں وہی شیدا ہے شیدا شاہِ قاتل کا

    کہ جس پردین و دنیا میں ہے سایہ شاہِ قاتل کا

    یہ نکتہ عین حق ہے جھوٹ کا پہلو نہیں اس میں

    مریدوں کے لیے کعبہ ہے روضہ شاہِ قاتل کا

    خزانے دولتِ عرفاں کے آکر لوٹ لیں طالب

    کہ دامن ابرِ رحمت بن کے چھایا شاہِ قاتل کا

    ہمارے دیدۂ بینا کو حیرانی ہے حیرانی

    نظر آیا ہمیں ہر سمت جلوہ شاہِ قاتل کا

    تمنا ہے یہی زیبا ؔکے قلب زار میں یا رب

    رہے سایہ مریدوں پر ہمیشہ شاہِ قاتل کا

    مأخذ :
    • کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 30)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے