Font by Mehr Nastaliq Web

اخلاق کی تعلیم ہے فرمانِ محمد

ضیا فتح آبادی

اخلاق کی تعلیم ہے فرمانِ محمد

ضیا فتح آبادی

MORE BYضیا فتح آبادی

    اخلاق کی تعلیم ہے فرمانِ محمد

    توحید کا دریا مئے عرفانِ محمد

    ملتی ہے یہاں روح کو برنائی و تسکیں

    ہے سایۂ حق سایۂ دامانِ محمد

    دامِ ہوس و حرص سے ہوتے ہیں جو آزاد

    ملتا ہے انہیں منصب خاصانِ محمد

    گھٹتی گئی کوتاہیٔ چشم و دلِ انساں

    بڑھتی ہی گئی شوکتِ دیں شانِ محمد

    پردے ابھی آنکھوں پہ جہالت کے پڑے ہیں

    پائے کوئی کیسے درِ فیضانِ محمد

    لکھی گئی دنیا میں ضیاؔ نورِ یقیں سے

    انسان کی تاریخ بعنوانِ محمد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے