محتاج نہیں رکھا محمد کی عطا نے
محتاج نہیں رکھا محمد کی عطا نے
دریائے کرم بخش درِ جود و سخا نے
اللہ رے کس درجہ ہے تاثیر کرم کی
منہ پھیر دیا غم کا مدینے کی ہوا نے
سنتے ہیں کہ بخشش کی سند در سے ملے گی
ہم آئے ہیں سرکار میں نام اپنا لکھوانے
اللہ کی رحمت ہوئی سرکار کی صورت
در کھول دیئے ہم پر عنایاتِ خدا نے
اک سلسلۂ جود و سخا سے ہے تعلق
پابندِ کرم کر دیا رحمت کو خطا نے
کیا نذر کریں ہم تو ہیں خود در کے بھکاری
ہاں لائے ہیں اشکوں کے گہر در پہ لٹانے
دھڑکن ہی کہیں دل کی نہ رک جائے خوشی میں
آئی ہے مدینے سے صبا آج بلانے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.