مرحبا ساقی بزمِ انوار
صاحب معنی و کنز اسرار
تیری ہستی کا بیاں ہو کس سے
ذات بیرنگ عیاں ہو کس سے
کتنی معصوم ہے تیری فطرت
نور ہی نور ہے تیری صورت
جس قدر دہر میں تصویریں ہیں
سب ترے حسن کی تفسیریں ہیں
زینتِ کثرت وحدت تجھ سے
تجھ سے اے نورِ حقیقت تجھ سے
تیری ہستی کا جو عرفاں ہو جائے
سرِّ توحید نمایاں ہو جائے
کس قدر ہے تیرا فیضِ انوار
ذرے ذرے میں ہیں خورشید ہزار
روشنیٔ دلِ وحدت تو ہے
نورِ قندیل حقیقت تو ہے
قلبِ ادراک معطر تجھ سے
روحِ احساس منور تجھ سے
فرشِ عالم ترے دم سے آباد
آسماں تیرے قدم سے آباد
حسن سے تیرے دو عالم معمور
عرش تا فرش ہے سب نور ہی نور
غیب تیرے لیے ہر دم موجود
سامنے تیرے ملک سر بسجود
نام تیرا جو زباں پر کبھی آئے
آسماں فرطِ ادب سے جھک جائے
دیدۂ عرش کا تارا تو ہے
اور مشیت کا دلارا تو ہے
ختم فطرت کا ہے سب تجھ پہ کمال
روزِ اول سے نہیں تیری مثال
کچھ اشارہ جو ترا پاتی ہے
زلفِ کن خود ہی سلجھ جاتی ہے
ہادیٔ ہر دوسرا بھی تو!
شافعِ روزِ جزا بھی تو!
دلبرِ خالق کونین بھی تو ہے
مالک دفترِ دارین بھی تو ہے
عارفِ غارِ حرا کہتے ہیں
تجھے محبوبِ خدا کہتے ہیں
جلوۂ دہر ہے مظہر تیرا
ایک عالم ہے مسخر تیرا
سطحِ گیتی پہ جو انسان ہوئے
سب ترے تابعِ فرمان ہوئے
تیرے احکام وہاں چلتے ہیں
پر فرشتوں کے جہاں جلتے ہیں
کہاں گنجائش ادراک وہاں
تیرے سایہ کی ہے پرواز جہاں
جسمِ اطہر کی تو کیا ہو تفسیر
پاؤں کی خاک ہے رشکِ اکسیر
دلِ فطرت میں ہے تیری تصویر
سینۂ طور میں تیری تنویر
عکس تیرا جو ہے پیمانے میں
اور ہی رنگ ہے میخانے میں
اپنے آپے میں نہیں دیوانے
دیکھ کر نور بھرے پیمانے
عقل سرشار ہوئی جاتی ہے
روح بیدار ہوئی جاتی ہے
ہے سروں پر جو ترا سایۂ ذات
تیرے مستوں کو نہیں فکرِ نجات
ذات تیری ہے ازل سے بے عیب
تیری سرکار بڑی ہے لاریب
فیض ہے چار طرف عام تیرا
ہے سخاوت میں بڑا نام تیرا
ترے ساغر سے جو سرشار ہوئے
نام لے کر جو ترا پار ہوئے
صدقہ ان بادہ کشوں کا ساقی
کھل نہ جائے مرا پردہ ساقی
مئے بیرنگ کی لذت دیدے
اپنے دیدار کی دولت دیدے
اک عجب عالمِ حیرانی ہے
ہر طرف درد و پریشانی ہے
کوئی مونس نہیں غم خوار نہیں
جز تیرے کوئی مدد گار نہیں
راز افسانے بنے جاتے ہیں
اپنے بیگانے بنے جاتے ہیں
گرچہ بدتر ز سگِ دنیا ہوں
نام لیوا تو مگر تیرا ہوں
میں گنہ گار ہوں مانا لیکن
اور سیہ کار ہوں مانا لیکن
ایک ادنیٰ سا اشارہ کر دے
میں ہوں قطرہ مجھے دریا کر دے
قلب ہو جائے منور میرا
پھر چمک جائے مقدر میرا
تو ہے گرتوں کو اٹھانے والا
بگڑی قسمت کا بنانے والا
گلِ امید کھلانے والا
یعنی روتوں کو ہنسانے والا
تیری اک چشمِ عنایت ہو اگر
سب بدل جائیں قضا اور قدر
روح میں دل میں اجالا کردے
ہر نفس شعلۂ سینا کردے
مست صہبائے محبت کر دے
یعنی سرشار حقیقت کردے
دین و دنیا میں ہو عزت میری
تیرے سائے میں ہو جنت میری
مجھے آسودۂ منزل کر دے
میں ہوں ناقص مجھے کامل کر دے