Font by Mehr Nastaliq Web

بھر کے پچکاریوں میں رنگیں رنگ

سعادت یار خاں رنگیں

بھر کے پچکاریوں میں رنگیں رنگ

سعادت یار خاں رنگیں

MORE BYسعادت یار خاں رنگیں

    بھر کے پچکاریوں میں رنگیں رنگ

    نازنیں کو کھلائے ہولی سنگ

    چلتی ہے دو طرف سے پچکاری

    منہ برستا ہے رنگ کا بھاری

    بادل آئے ہیں گھری گلال کے لال

    کچھ کسی کا نہیں کسی کو خیال

    ہاتھ میں جس کے واں ہزارا ہے

    ایک عالم کو اس نے مارا ہے

    ہیں جو مصروف سب صغیر و کبیر

    اڑ رہا ہے گلال اور عبیر

    بن گئے ہیں ہوا میں وہ بادل

    اور زمیں میں پڑے ہیں تھل کے تھل

    سر کے بالوں کا ہے کسی کو غم

    کوئی ملتی ہیں آنکھ ہی ہر قدم

    ہیں کھڑی کوئی بھر کے پچکاری

    اور کسی نے کسی کو جا ماری

    کوئی جاتی ہے اس طرف سے ادھر

    کوئی آتی ہے اس طرف سے ادھر

    بھر کو پچکاری وہ جو ہے چالاک

    مارتی ہے کسی کو دور سے تاک

    کسی نے بھر کے رنگ کا تسلہ

    ہاتھ سے ہے کسی کا منہ مسلا

    اور مٹھی میں اپنی بھر کے گلال

    ڈال کر رنگ منہ کیا ہے لال

    جس کے بالوں میں پڑ گیا ہے عبیر

    بڑبڑاتی ہے یہ وہ ہو دلگیر

    ایسی ہولی کا کھوجڑا جاوے

    کوئی نوج ایسے کھیل میں آوے

    جس کی آنکھوں میں پڑ گیا ہے گلال

    وہ یہ کہتی ہے ٹھنک کے ہیں فی الحال

    چل گئی مجھ پہ آہ فوج کی فوج

    گھر سے میں اپنے آج آئی نوج

    جس نے ڈالا ہے حوض میں جس کو

    وہ یہ کہتی ہیں کوس کر اس کو

    یہ ہنسی تیری بھاڑ میں جائے

    تجھ کو ہولی نہ دوسری آئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے