Font by Mehr Nastaliq Web

رجوع بہ حکایت خواجۂ تاجر

رومی

رجوع بہ حکایت خواجۂ تاجر

رومی

MORE BYرومی

    دلچسپ معلومات

    اردو ترجمہ: سجاد حسین

    رجوع بہ حکایت خواجۂ تاجر

    خواجہ سودا گر کی حکایت کی طرف رجوع

    بس درازست ایں حدیث خواجہ گو

    تا چہ شد احوال آں مرد نکو

    یہ قصّہ دراز ہے اے صاحب! بتائیے

    اُس نیک مرد کے کیا احوال ہوئے؟

    خواجہ اندر آتش و درد و حنیں

    صد پراکندہ ہمی‌‌ گفت ایں چنیں

    خواجہ آگ اور درد اور رونے کی حالت میں

    اِسی طرح کی سینکڑوں بہکی بہکی باتیں کر رہا تھا

    گہ تناقض گاه ناز و گہ نیاز

    گاه سوداۓ حقیقت گہ مجاز

    کبھی متضاد باتیں، کبھی ناز اور کبھی نیاز

    کبھی حقیقی پاگل پن اور کبھی بناوٹی

    مرد غرقہ گشتہ جانے می‌‌ کند

    دست را در ہر گیاہے می‌‌ زند

    ڈوبنے والا، جان توڑتا ہے

    ہر تنکے پر ہاتھ مارتا ہے

    تا کدامش دست گیرد در خطر

    دست و پاۓ میزند از بیم سر

    تاکہ خطرے میں اُس کی کوئی دستگیری کرے

    سر کے ڈر سے ہاتھ پیر مارتا ہے

    دوست دارد یار ایں آشفتگی

    کوشش بیہوده بہ از خفتگی‌‌

    اس پریشان حالی کو دوست پسند کرتا ہے

    سونے سے، لا حاصل کوشش بہتر ہے

    آنکہ او شاہست او بے کار نیست

    نالہ از وے طرفۂ کو بیمار نیست‌‌

    جو شاہ ہے وہ (بھی) بیکار نہیں ہے

    جو بیمار نہیں ہے اُس کی آہ وزاری عجیب بات ہے

    بہر ایں فرمود رحمان اے پسر

    کل يوم هو فی شأن اے پسر

    اے بیٹا! رحمٰن نے اس لئے فرمایا ہے

    اے بیٹا! وہ ہر روز کسی کام میں ہے

    اندریں ره می‌‌تراش و می‌‌خراش

    تا دم آخر دمے فارغ مباش‌‌

    اِس راستہ میں کانٹ چھانٹ کرتے رہو

    آخری سانس تک کسی وقت خالی نہ رہو

    تا دم آخر دمے آخر بود

    کہ عنایت با تو صاحب سر بود

    مرتے دم تک کوئی وقت ضرور ہو گا

    کہ عنایتِ (خداوندی) تیری ہمزار ہوگی

    ہر چہ کوشد جان کہ در مرد و زنست

    گوش و چشم شاه جاں بر روزنست‌‌

    جو بھی کوشش کرتا ہے، خواہ مرد ہو یا عورت

    جان کے مالک کے کان اور آنکھیں جھروکے پر لگی ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے