Font by Mehr Nastaliq Web

بروں انداختن مرد تاجر طوطی را از قفس و پریدن طوطی مرده‌‌

رومی

بروں انداختن مرد تاجر طوطی را از قفس و پریدن طوطی مرده‌‌

رومی

MORE BYرومی

    دلچسپ معلومات

    اردو ترجمہ: سجاد حسین

    بروں انداختن مرد تاجر طوطی را از قفس و پریدن طوطی مرده‌‌

    خواجہ کا مُردہ طوطی کو پنجرے سے باہر پھینکنا اور اُس کا اڑ جانا

    بعد از آنش از قفس بیروں فگند

    طوطیک پرید تا شاخ بلند

    اُس کے بعد اُس کو پنجرے سے باہر پھینکا

    طوطی بلند شاخ پر اُڑا گئی

    طوطی مرده چناں پرواز کرد

    کافتاب شرق تر کی تاز کرد

    مُردہ طوطی نے اِس طرح اُڑان بھری

    جیسے سورج مشرق سے دوڑ دھوپ کرتا ہے

    خواجہ حیراں گشت اندر کار مرغ

    بے خبر نا گہ بدید اسرار مرغ‌‌

    پرندے کے کام سے خواجہ حیران ہو گیا

    اچانک، بے خبر اُس نے پرندے کے راز دیکھے

    روۓ بالا کرد و گفت اے عندلیب

    از بیاں حال خودماں ده نصیب‌‌

    اوپر مُنہ اٹھایا اور بولا اے بُلبل!

    اپنے حال کے بیان سے ہمیں حصّہ دے

    او چہ کرد آنجا کہ تو آموختی

    ساختی مکرے و ما را سوختی‌‌

    اُس نے وہاں کیا کیا جوتونے سیکھ لیا

    اپنی تدابیر سے تونے ہماری آنکھیں بند کر دیں

    گفت طوطی کو بفعلم پند داد

    کہ رہا کن لطف آواز و وداد

    طوطی نے کہا کہ اُس نے عمل سے مجھے نصیحت کی

    کہ بول چال اور خوشی کو ترک کر دے

    ز آنکہ آوازت ترا در بند کرد

    خویشتن مرده پۓ ایں پند کرد

    کیونکہ تیری آواز نے تجھے قید کرایا

    اُس نے اِس نصیحت کیلئے اپنے آپ کو مُردہ بنا لیا

    یعنی اے مطرب شده با عام و خاص

    مرده شو چوں من کہ تا یابی خلاص‌‌

    یعنی اے خاص و عام کو مست کرنیوالے

    میری طرح مردہ بن جا تاکہ نجات پائے

    دانہ باشی مرغکانت بر چنند

    غنچہ باشی کودکانت بر کنند

    دانہ بنے گا تو پرندے تجھے چُگ لیں گے

    کلی بنے گا تو بچّے تجھے نوچ لیں گے

    دانہ پنہاں کن بکلی دام شو

    غنچہ پنہاں کن گیاه بام شو

    دانے کو چھپا، بالکل جال بن جا

    کلی کو چھپالے محل کا سبزہ بن جا

    ہر کہ داد او حسن خود را در مزاد

    صد قضاۓ بد سوۓ او رو نہاد

    جس نے اپنے حُسن کو بڑھایا

    سینکڑوں آفتوں نے اُس کا رُخ کیا

    حیلہا و خشمہا و رشکہا

    بر سرش ریزد چو آب از مشکہا

    آنکھیں اور غصّے اور رَشک

    اُس پر اِس طرح برس پڑینگے جیسے مشک سے پانی

    دشمناں او را ز غیرت می‌‌ درند

    دوستاں ہم روزگارش می‌‌ برند

    دشمن، حسد سے اُسے پھاڑ ڈالیں گے

    دوست بھی اُس کا وقت ضائع کریں گے

    آنکہ غافل بود از کشت و بہار

    او چہ داند قیمت ایں روزگار

    جو موسم بہار کی کھیتی سے غافل ہو

    وہ اُس وقت کی قیمت کیا جانے

    در پناه لطف حق باید گریخت

    کو ہزاراں لطف بر ارواح ریخت‌‌

    اللہ کی مہربانی کی پناہ میں آنا چاہئے

    جس نے روحوں پر ہزاروں مہربانیاں برسائی ہیں

    تا پناہے یابی آنگہ چوں پناه

    آب و آتش مر ترا گردد سپاه‌‌

    اُسوقت تک کہ تو پناہ حاصل کر لے اور پناہ بھی کسی

    کہ پانی اور آگ تیرے سپاہی بن جائیں

    نوح و موسی را نہ دریا یار شد

    نہ بر اعداشان بکیں قہار شد

    کیا نوح اور موسیٰ (علیہما الّسلام) پر دریا مہربان

    کیا اُنکے دشمنوں پر اُس نے قہر نہیں ڈھایا؟

    آتش ابراہیم را نے قلعہ بود

    تا بر آورد از دل نمرود دود

    کیا آگ ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنی طرف نہیں؟

    یہاں تک کہ نمرود کے دل سے دھواں اُٹھا دیا

    کوه یحیی را نہ سوۓ خویش خواند

    قاصدانش را بزخم سنگ راند

    کیا پہاڑ نے (یحیٰ علیہ السلام) کو اپنی طرف نہیں بلایا؟

    اور اُن کا قصد کرنیوالوں کو پتھر مار کر بھگایا؟

    گفت اے یحیی بیا در من گریز

    تا پناہت باشم از شمشیر تیز

    اُس نے کہا اے یحیٰ! آ مجھ میں بھاگ آ

    تاکہ تیز تلوار سے تیری پناہ بنوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے