یا رسول اللہ خوش کرد و دل ناشاد کو
یا رسول اللہ خوش کرد و دل ناشاد کو
رام کر دو نفس سرکش کافرِ جلاد کو
نرم پتھر کو کرو اور موم اس فولاد کو
یا محمد مصطفیٰ سن لو مری فریاد کو
اے شہ مشکل کشا پہنچو مری امداد کو
چاند اور سورج کا تیرے نور سے چمکا ہے نور
جلوہ تیرے نور کا روشن ہوا نزدیک و دور
تیرے خاطر ہیں نبی جن و بشر غلما ن و حور
تیری ہستی سے فقط ہستی نے پایا ہے ظہور
کر دیا آباد تو نے عالم ایجاد کو
دیکھتا لیلیٰ کو مجنوں کس لیے یا مصطفیٰ
گر ترا آتا نظر اس کو جمال دلربا
کیوں عزیز مصر سے رکھتی زلیخا مدعا
جان شیریں کیوں وہ شیریں کے لیے کھو بیٹھا
تیری صورت گر نظر آتی کہیں فرہاد کو
حق نے لکھی ہے تری تصویر کیا حق کی قسم
دل کے آئینہ سے جو دیتی ہے جلوہ دمبدم
تیرا نقشہ کر سکیں تصویر گر کیوں کر رقم
پھینک دیں ہاتھوں سے اپنے یک قلم اپنا قلم
آپ گر صورت دکھا دیں مانی و بہزاد کو
چہرۂ ہستی کو تیرے حسن سے زینت ملی
عرش و کرسی کو تری وسعت سے ہے وسعت ملی
مہر و مہ کو روشنی افلاک کو رفعت ملی
آگ کو تجھ سے بلندی خاک کو عزت ملی
آبداری آب کو تیزی و تندی باد کو
ہجر میں ہو دیکھیے آخر کو کیا انجام دل
غم میں کیسے ہو قیام جان و استحکام دل
ہووے بیدار حاصل کس طرح آرام دل
رونے سے کیوں کر بھلا مل جائے اپنا کام دل
پانی پر ہو محکمی کس طور اس بنیاد کو
عزت و حرمت میں حضرت تجھ سے اعلیٰ کون ہے
پایۂ و عزو شرف سے تجھ سے اونچا کون ہے
تجھ سے افضل تجھ سے بہتر تجھ سے اچھا کون ہے
تیرے ہم رتبہ فرشتوں میں فرشتہ کون ہے
مرتبہ ایسا ہے حاصل کون آدم زاد ہے
واسطہ بیشک ولی رکھتا ہے وہ اللہ سے
جس کو حاصل خدا کی چاہ تیری چاہ سے
درگہ حق میں پہنچتا ہے تری درگاہ سے
بھولتا ہر گز نہیں دنیا میں حق کی راہ سے
یاد جو رکھتا ہے حضرت دل میں تیری یاد کو
تیرے بندے ہیں فقط سب بندگان اہلِ دیں
بادشاہان زمانہ ہیں غلام کمتریں
سر نگوں رہتے ہیں سرداران با تاج و نگیں
آپ کے محکوم ہیں بس حاکمان سر زمیں
مانتے ہیں مرشدانِ دیں تیرے ارشاد کو
ہوں ترا مداح اے پیغمبر آخر زماں
جب تلک جاری قلم اپنا ہے اور گویاز باں
نام نامی آپ کا وردِ زباں ہے ہر زماں
اس پہ سب خلق جہاں خردو کلاں پیر و جواں
آفریں کہتے ہیں مجھ کو اور مرےاستاد کو
مست کردو ایسے دیوانے کو اپنے جام سے
تار ہے حاصل فراغت اس کو ہر اک کام سے
باندھ لو حضرت اسے گیسوئے عنبر فام سے
چھوڑو مت جس کو رہے دم اس کا اپنے دام سے
قیدی اب اپنا بنا لو سرورِ آزاد کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.