ہمارے سوز دروں سے ہے تمہیں آگ لگی
ہمارے سوز دروں سے ہے تمہیں آگ لگی
زبان جلنے لگی اور دہن میں آگ لگی
کہیں نہیں ہے یہ لالہ چمن میں آگ لگی
مری تو جان و جگر اور تن میں آگ لگی
یہ رورو کہتی تھی بلبل وطن میں آگ لگی
اگیا لاگی سندر بن جرگیو
دھڑی مسی کی لبوں پر جمائی شیریں نے
گلوری پان کی ہنس ہنس کے کھائی شیریں نے
حنا ملی تو یہ آفت مچائی شیریں نے
مگر یہ سیر عجائب دکھائی شیریں نے
پھر اس طرف کو دل کو دکن میں آگ لگی
اگیا لاگی سندر بن جرگیو
ہوا ہوں تنگ بتوں کی میں بیوفائی سے
مریض ہجر ہوں صحت ہو کیا دوائی سے
جدا ہے سوز جگر میرا سب جدائی سے
جلی ہے لاش مری آتش جدائی سے
مدد کو پہونچو صنم اب کفن میں آگ لگی
اگیا لاگی سندر بن جرگیو
لبوں کو دیکھ کے حیران جہاں ہے بولو تو
تمہاری چپ سے جہاں بد گماں ہے بولو تو
دھواں یہ آگ سے شاید عیاں ہے بولو تو
یہ مسی ہونٹوں پہ ہے یاد ھواں ہے بولو تو
یہ سرخی پان کی ہے یادہن میں آگ لگی
اگیا لاگی سندر بن جرگیو
عجب ڈھنگ کی چلتے ہیں چال ہولی میں
گلوں کو کرتےہیں وہ پائمال ہولی میں
ہوا ہے دیکھ کے مست ہر گلال ہولی میں
گلال زلفوں میں ان کے پڑا تھا لال ہولی میں
تولا لہ بولا کہ مشک ختن میں آگ لگی
اگیا لاگی سندر بن جرگیو
عجب دکھاتی ہے رنگ بہار غصے میں
صفت نئی ہوئی پیدا نگار غصے میں
عرق بنا ہے دُر شاہوار غصے میں
ہوا جو سرخ ترا چہرہ یار غصے میں
تو بلبلوں نے بھی جانا چمن میں آگ لگی
اگیا لاگی سندر بن جرگیو
اثر یہ عشق نے اتنا دکھادیا بارے
طلب جو بوسہ کیا میں نے اس بھبوکے سے
مگر میں کیا کہوں ہنس ہنس کے ٹالا اس بت نے
کہ بے طلب مرے گھر خود بخود چلے آئے
زباں تو شمع بنی اور دہن میں آگ لگی
اگیا لاگی سندر بن جرگیو
صنم یہ میرا ہوا خاتمہ نزاکت کا
نہیں ہے گوا بھی سن شباب کو پہونچا
یہ رات رات ہے آتش بھلا کہوں میں کیا
شفق کو دیکھ کے کہتے ہیں نوجوان میرا
عجب تماشہ ہے چرخ کہن میں آگ لگی
اگیا لا گی سندر بن جرگیو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.