Font by Mehr Nastaliq Web

سراپا ہیں رحمت حبیب_دو_عالم

مبین علوی

سراپا ہیں رحمت حبیب_دو_عالم

مبین علوی

MORE BYمبین علوی

    سراپا ہیں رحمت حبیب دو عالم

    وہی فخر انساں وہی فخر آدم

    خدا ان کا محرم خدا کے وہ محرم

    بھلا کون ہے ان کے ایسا معظم

    کہ محبوب رب ہیں نبیٔ مکرم

    انہیں کے کرم سے شبستاں ہے مسکن

    انہیں کی مہک سے معطر ہے گلشن

    مہ و شمس انجم انہیں سے ہیں روشن

    انہیں کا ہے جلوہ ضیائے دو عالم

    کہ ہیں نور یزداں نبیٔ مکرم

    ستمگر زمانہ مخالف ہوائیں

    فسانہ کسے بے بسی کا سنائیں

    کہاں تک غم آرزو ہم چھپائیں

    نہ کیوں ہو زباں پر یہی اپنی ہر دم

    نظر ہو کرم کی نبیٔ مکرم

    یوں عشق نبی اب دلوں میں بساؤ

    کہ اپنے دلوں کو مدینہ بناؤ

    غلامان آل نبی بن کے آؤ

    ملیں گی تمہیں نعمتیں روز پیہم

    کہ ہیں راحت جاں نبیٔ مکرم

    سر عرش تنہا نبی کو بلایا

    خدا نے انہیں اپنا مہماں بنایا

    ملک حور و غلماں نے مژدہ سنایا

    کہ ہے ان کے زیر قدم عرش اعظم

    مبین بس وہی ہیں نبیٔ مکرم

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے