یہ ہجراں و حرماں کے صدمے اشد
دلچسپ معلومات
خمسہ بر غزلِ عبدالرحمٰن جامیؔ۔
یہ ہجراں و حرماں کے صدمے اشد
یہ دوری کے رنج و الم بے عدد
ہمارے غموں کی نہیں کوئی حد
نہ پیکے کہ از تا پیامش برد
نہ بادے کہ روزے سلامش برد
نہ بے چینی میں کچھ کمی ہے نہ کاست
نہ دل را قرارے نہ غم را دواست
ہو کس طرح سے کوئی تدبیر راست
مرا طاقتِ دیدنِ او کجاست
کہ بیخود دشود ہر کہ نامش برد
بہت فکر کی ہم نے شام و پگاہ
بہت روئے راتوں بہت کھینچی آہ!
نظر آئی تدبیر یہ صبح گاہ
بود سرمۂ دیدۂ آں خاک راہ
کہ مردم بصد اہتمامش برد
بہت فکر میں تھا دلِ چارہ جو
یہ کرتا تھا خود آپ سے گفتگو
میں دیکھوں انہیں اور وہ ہوں روبرو
چہ نیکو ست بودن گرفتار او
خوشا دل کہ راہے بدامش برد
وہ سیمائے انور وہ نور انام
وہ رخ کی تجلی وہ حسنِ تمام
خجل مہر ہو ایسی روشن ہو شام
چو آں می کند جلوہ از طرفِ بام
فلک رشک از طرف بامش برد
مجھے دیکھ کر ایسا وحشت زدہ
نسیم سحر کو بھی رحمِ آگیا
براہِ عنایت بشانِ سخا
مرا سوئے سرو سہی چوں صبا
ہوائے قدِ خوش خرامش برد
نعیمؔ سیہ کار بے حد ہے بد
مگر لطف کی ان کے گر ہو مدد
تو حاصل ہو بے شک نعیم ابد
بہ میخانہ جامی بخود چوں رود
مگر ہمت شیخ جامش برد
- کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 10)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.