Font by Mehr Nastaliq Web

چھپ کے پردہ میں آنکھ کے وہ حسیں

نعیم الدین مرادآبادی

چھپ کے پردہ میں آنکھ کے وہ حسیں

نعیم الدین مرادآبادی

MORE BYنعیم الدین مرادآبادی

    چھپ کے پردہ میں آنکھ کے وہ حسیں

    دل کے پردہ میں ہوگیا ہے مکیں

    لاکھ پردہ ہے اور پردہ نہیں

    جلوہ گر گشت یار پردہ نشیں

    غم زدہ زن گشت حسن در بازار

    منعم خستہ و جگر افگار

    از پئے زخمہائے قلب نگار

    مرہمے می نجست از بازار

    کیں صدا آمد از در و دیوار

    لیس فی الدارِ غیرہ دیار

    مأخذ :
    • کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 12)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے