رب احمد کی قسم احمدِ ذیشاں کی قسم
رب احمد کی قسم احمدِ ذیشاں کی قسم
اپنے آقا کی قسم شاہِ رسولاں کی قسم
دردِ دل کی قسم اپنے دلِ پنہاں کی قسم
مٹ گئے عشق میں خاکِ درِ جاناں کی قسم
پھر بھی بے چین ہے دل جنبشِ داماں کی قسم
ملتی ہے تیری غلامی سے نجاتِ ابدی
تجھ میں گم ہونے کو کہتے ہیں ثباتِ ابدی
تجھ پہ مٹ جاؤں تو حاصل ہوں صفات ابدی
تجھ پہ مرنے کو سمجھتا ہوں حیاتِ ابدی
آرزؤں کی قسم حسرت و ارماں کی قسم
دیکھنے والوں کے پھر ہوش اڑا دے جلوہ
آج ہر ذرہ کو خورشید بنا دے جلوہ
حسرتیں اس دلِ شیدا کی مٹا دے جلوہ
حشر ہے آج تو بے پردہ دکھا دے جلوہ
تجھ کو محبوب مرے چاکِ گریباں کی قسم
دلِ وحشی ہے ترے ہجر میں ہر دم مغموم
درِ اقدس پہ پہنچتا یہ کہاں تھے مقسوم
آگے تقدیر میں کیا ہے یہ نہیں کچھ معلوم
تیرہ بختی نے رکھا وصل سے اب تک محروم
شب ہجراں کی قسم شامِ غریباں کی قسم
خسروِ حسن ترے حسن کی یکتا ہے بہار
دل تو کیا چیز تری زلف پہ کونین نثار
یہ منعمؔ نہ کسی طرح کہے گا زنہار
دل الجھتا ہے خدا کے لیے زلفوں کو سنوار
اپنے بیدم کے تجھے حالِ پریشاں کی قسم
- کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 15)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.