Font by Mehr Nastaliq Web

زندگی مانگی ہے میں نے نہ قضا مانگی ہے

نازاں شولا پوری

زندگی مانگی ہے میں نے نہ قضا مانگی ہے

نازاں شولا پوری

MORE BYنازاں شولا پوری

    زندگی مانگی ہے میں نے نہ قضا مانگی ہے

    نہ تو صحت کے لیے کوئی دوا مانگی ہے

    ہونٹ جل جائیں اگر اس کے سوا مانگی ہے

    شب ہجراں یہی حق سے بہ خدا مانگی ہے

    آنے والے تیرے آنے کی دعا مانگی ہے

    ساقیا مئے کدۂ حق کے پرستاروں نے

    یعنی مینائے محبت کے خریداروں نے

    کچھ نہیں اس کے سوا مانگا طلب گاروں نے

    تیری زلفوں کی قسم ہے ترے مے خواروں نے

    مسکراتی ہوئی رحمت کی گھٹا مانگی ہے

    وقت نزع ہے چلے آؤ کہ آنکھوں میں ہے دم

    سہنے والا بھی کہاں تک سہے فرقت کے ستم

    دل میں اک گھر کیے بیٹھے ہیں جدائی کے الم

    روٹھنے والے تیرے روٹھ کے جانے کی قسم

    تیرے بیمار نے دامن کی ہوا مانگی ہے

    بے قراری گئی حاصل ہوا دل کا درماں

    مٹ گئی مٹ گئی نازاںؔ خلش درد نہاں

    دل ہے مسرور طبیعت ہے جوانوں سی جواں

    آج بیمار کے چہرے سے مسرت ہے عیاں

    کیا کسی نے میرے جینے کی دعا مانگی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے