زندگی مانگی ہے میں نے نہ قضا مانگی ہے
زندگی مانگی ہے میں نے نہ قضا مانگی ہے
نہ تو صحت کے لیے کوئی دوا مانگی ہے
ہونٹ جل جائیں اگر اس کے سوا مانگی ہے
شب ہجراں یہی حق سے بہ خدا مانگی ہے
آنے والے تیرے آنے کی دعا مانگی ہے
ساقیا مئے کدۂ حق کے پرستاروں نے
یعنی مینائے محبت کے خریداروں نے
کچھ نہیں اس کے سوا مانگا طلب گاروں نے
تیری زلفوں کی قسم ہے ترے مے خواروں نے
مسکراتی ہوئی رحمت کی گھٹا مانگی ہے
وقت نزع ہے چلے آؤ کہ آنکھوں میں ہے دم
سہنے والا بھی کہاں تک سہے فرقت کے ستم
دل میں اک گھر کیے بیٹھے ہیں جدائی کے الم
روٹھنے والے تیرے روٹھ کے جانے کی قسم
تیرے بیمار نے دامن کی ہوا مانگی ہے
بے قراری گئی حاصل ہوا دل کا درماں
مٹ گئی مٹ گئی نازاںؔ خلش درد نہاں
دل ہے مسرور طبیعت ہے جوانوں سی جواں
آج بیمار کے چہرے سے مسرت ہے عیاں
کیا کسی نے میرے جینے کی دعا مانگی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.