Font by Mehr Nastaliq Web

جب بام پر وہ زلف سنوارے نکل پڑے

نازاں شولا پوری

جب بام پر وہ زلف سنوارے نکل پڑے

نازاں شولا پوری

MORE BYنازاں شولا پوری

    جب بام پر وہ زلف سنوارے نکل پڑے

    تاریک وادیوں سے نظارے نکل پڑے

    وہ چھپ گئے تو آنکھ سے تارے نکل پڑے

    دل گم ہوا تو اشک ہمارے نکل پڑے

    سورج کے ڈوبتے ہی ستارے نکل پڑے

    شبنم سے منہ کو دھو لیا ہر لالہ زار نے

    نکھرا دیا چمن کو گلوں کے نکھار نے

    دل چھین لیا باغ کے نقش و نگار نے

    سینہ زمیں کا چاک‌ کیا جب بہار نے

    صحرا میں دل نواز نظارے نکل پڑے

    کیا دل ہیں فروش محبت کے ہم نشیں

    دیتے ہیں جان ان کے اشارے پہ با لیقیں

    نازاںؔ یہ خون رائیگاں جاتا کبھی نہیں

    اے جرم عرش بن گئی مقتل کی سر زمیں

    جب سر کٹا نے عشق کے مارے نکل پڑے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے