جب بام پر وہ زلف سنوارے نکل پڑے
جب بام پر وہ زلف سنوارے نکل پڑے
تاریک وادیوں سے نظارے نکل پڑے
وہ چھپ گئے تو آنکھ سے تارے نکل پڑے
دل گم ہوا تو اشک ہمارے نکل پڑے
سورج کے ڈوبتے ہی ستارے نکل پڑے
شبنم سے منہ کو دھو لیا ہر لالہ زار نے
نکھرا دیا چمن کو گلوں کے نکھار نے
دل چھین لیا باغ کے نقش و نگار نے
سینہ زمیں کا چاک کیا جب بہار نے
صحرا میں دل نواز نظارے نکل پڑے
کیا دل ہیں فروش محبت کے ہم نشیں
دیتے ہیں جان ان کے اشارے پہ با لیقیں
نازاںؔ یہ خون رائیگاں جاتا کبھی نہیں
اے جرم عرش بن گئی مقتل کی سر زمیں
جب سر کٹا نے عشق کے مارے نکل پڑے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.