Font by Mehr Nastaliq Web

شراب_ناب کی تقسیم ہو رہی ہوگی

شاہ محسن داناپوری

شراب_ناب کی تقسیم ہو رہی ہوگی

شاہ محسن داناپوری

MORE BYشاہ محسن داناپوری

    شراب ناب کی تقسیم ہو رہی ہوگی

    تو واعظ ہی کے ہاتھوں میں تھرتھری ہوگی

    وہاں بھی بادہ پرستوں کی بن پڑی ہوگی

    اناڑیوں سے نہ جنت میں مے کشی ہوگی

    کھلاڑیوں ہی کے منہ سے یہ شئے لگی ہوگی

    سرود عشق کے نغمے سنائے گا تمہیں دل

    کبھی شراب محبت پلائے گا تمہیں دل

    تم آزما چکے اب آزمائے گا تمہیں دل

    بہار داغوں کی اپنی دکھائے گا تمہیں دل

    یہ مور ناچے گا جب آگے مورنی ہوگی

    حضور ساقیٔ کوثر ہر ایک درد آشام

    کرے گا عرض بمنت کہ ہو عطا اک جام

    یہ دیکھ کر کہ قدح خواروں کو ملا انعام

    شراب مانگے زاہد تو ہم کہیں گے حرام

    ملا جو یہ لب کوثر تو دل لگی ہوگی

    نگاہ ناز تمہاری پسند ہے ہم کو

    نظر فریب پہ برچھی پسند ہے ہم کو

    یہ ابرار کٹاری پسند ہے ہم کو

    تری نگاہ کی تیزی پسند ہے ہم کو

    بس اب ہمارا گلا ہوگا یہ چھری ہوگی

    نگاہ ہوش ربا ہائے کر گئی بے چپن

    ٹپک جگر میں تو ہے ٹیس دل میں جی بے چپن

    کرے گی اور زیادہ یہ اس گھڑی بے چپن

    نظر ابھی سے ہے اس شوخ چشم کی بے چپن

    جوانی آئی تو یہ اور چلبلی ہوگی

    وہ شکل صفائے دل پر جو تھی کھنچی اکبر

    وہ نور بن کے اب آنکھوں میں آ گئی اکبر

    وہ بات نکلی زباں سے جو دل میں تھی اکبر

    ہماری آنکھیں ہیں جھانکی کرشن کی اکبر

    وہ شکل ان میں بسے گی جو سانولی ہوگی

    مأخذ :
    • کتاب : کلیات محسن
    • Author : شاہ محسن داناپوری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے