تمنا ہے تو میرا ارمان تو ہے
دلچسپ معلومات
وفا اکبرآبادی نے حضرت شاہ اکبر داناپوری کی غزل پر یہ مخمس ترتیب دیا ہے، اس مخمس کا پہلا بند کتاب کے اوپری حصے کے پھٹ جانے کے باعث اوجھل ہوگیا ہے، اس بند کا صرف ایک مصرع باقی رہ گیا ہے جو حسبِ ذیل ہے۔ "مری زندگانی کا سامان تو ہے"
تمنا ہے تو میرا ارمان تو ہے
سلوک و ولایت کا عنوان تو ہے
مرا فقر تو میرا عرفان تو ہے
مرا دین تو میرا ایمان تو ہے
مری جان جس پر ہے قربان تو ہے
ھواللہ ربی و سبحانک اللہ
تجھی پر ہے ایمان الحمدلللہ
نگہباں رہے گا تو ان شاءاللہ
مرے دل کا دل ہے تو واللہ باللہ
مری جان کی جان اے جان تو ہے
بھٹکتا رہا ظلمتوں میں زمانہ
کسی نے نہ پایا ترا آستانہ
مجھی کو نظر آیا تیرا ٹھکانہ
اگر تجھ کو جانا تو میں نے ہی جانا
پھر اے دوست اس پر بھی انجان تو ہے
تو خود ہے پتنگا تو خود شمع آگیں
تو خود ہے چکورہ تو خود ماہ و پرویں
تو خود عشق ناکام خود حسنِ رنگیں
تو خود آئنیہ ہے تو خود آئینہ بیں
تماشہ یہ ہے آپ حیران تو ہے
وفاؔ جس کی خاھر تو پھرتا ہے در در
وہ پردہ نشیں ہے مرے دل کے اندر
تیرے پیر نے کہہ دیا سب یہ کہہ کر
جسے ڈھونڈتا پھر رہا ہے تو اکبر
مرے یار شکل اپنی پہچان تو ہے
- کتاب : Yadgar-e-Mohsin
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.