Font by Mehr Nastaliq Web

تمنا ہے تو میرا ارمان تو ہے

وفا اکبرآبادی

تمنا ہے تو میرا ارمان تو ہے

وفا اکبرآبادی

MORE BYوفا اکبرآبادی

    دلچسپ معلومات

    وفا اکبرآبادی نے حضرت شاہ اکبر داناپوری کی غزل پر یہ مخمس ترتیب دیا ہے، اس مخمس کا پہلا بند کتاب کے اوپری حصے کے پھٹ جانے کے باعث اوجھل ہوگیا ہے، اس بند کا صرف ایک مصرع باقی رہ گیا ہے جو حسبِ ذیل ہے۔ "مری زندگانی کا سامان تو ہے"

    تمنا ہے تو میرا ارمان تو ہے

    سلوک و ولایت کا عنوان تو ہے

    مرا فقر تو میرا عرفان تو ہے

    مرا دین تو میرا ایمان تو ہے

    مری جان جس پر ہے قربان تو ہے

    ھواللہ ربی و سبحانک اللہ

    تجھی پر ہے ایمان الحمدلللہ

    نگہباں رہے گا تو ان شاءاللہ

    مرے دل کا دل ہے تو واللہ باللہ

    مری جان کی جان اے جان تو ہے

    بھٹکتا رہا ظلمتوں میں زمانہ

    کسی نے نہ پایا ترا آستانہ

    مجھی کو نظر آیا تیرا ٹھکانہ

    اگر تجھ کو جانا تو میں نے ہی جانا

    پھر اے دوست اس پر بھی انجان تو ہے

    تو خود ہے پتنگا تو خود شمع آگیں

    تو خود ہے چکورہ تو خود ماہ و پرویں

    تو خود عشق ناکام خود حسنِ رنگیں

    تو خود آئنیہ ہے تو خود آئینہ بیں

    تماشہ یہ ہے آپ حیران تو ہے

    وفاؔ جس کی خاھر تو پھرتا ہے در در

    وہ پردہ نشیں ہے مرے دل کے اندر

    تیرے پیر نے کہہ دیا سب یہ کہہ کر

    جسے ڈھونڈتا پھر رہا ہے تو اکبر

    مرے یار شکل اپنی پہچان تو ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Yadgar-e-Mohsin

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے