Font by Mehr Nastaliq Web

ہر خط پہ یہی افسوس رہا یہ چھوٹ گیا وہ چھوٹ گیا

وفا عظیم آبادی

ہر خط پہ یہی افسوس رہا یہ چھوٹ گیا وہ چھوٹ گیا

وفا عظیم آبادی

MORE BYوفا عظیم آبادی

    ہر خط پہ یہی افسوس رہا یہ چھوٹ گیا وہ چھوٹ گیا

    تیغوں کی چمک پر باقی تھی بسمل کی تڑپ ہر مقتل میں

    قاتل کی جہاں تلوار رکی بسمل کا وہیں دم ٹوٹ گیا

    محفل ہی ہوئی درہم برہم کیا ساز بجے کیا راگ چھڑے

    جو تار ہے الجھا جاتا اک تار نفس جو ٹوٹ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے