Font by Mehr Nastaliq Web

اب تنگئ داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ

پیر نصیرالدین نصیرؔ

اب تنگئ داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ

پیر نصیرالدین نصیرؔ

MORE BYپیر نصیرالدین نصیرؔ

    اب تنگئ داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ

    ہیں آج وہ مائل بہ عطا اور بھی کچھ مانگ

    ہیں وہ متوجہ تو دعا اور بھی کچھ مانگ

    جو کچھ تجھے ملنا تھا ملا اور بھی کچھ مانگ

    ہر چند کے مولیٰ نے بھرا ہے تیرا کشکول

    کم ظرف نہ بن ہاتھ بڑھا اور بھی کچھ مانگ

    چھو کر ابھی آئی ہے ﺳﺮ ﻟﻒ ﻣﺤﻤﺪ

    کیا چاہیے اے باد صبا اور بھی کچھ مانگ

    یا سرور دیں شاہ عرب رحمت عالم

    دے کر تہ دل سے یہ صدا اور بھی کچھ مانگ

    سرکار کا در ہے در شاہاں تو نہیں ہے

    جو مانگ لیا مانگ لیا اور بھی کچھ مانگ

    جن لوگوں کو یہ شک ہے کرم ان کا ہے محدود

    اون لوگوں کی باتوں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ

    اس در پہ یہ انجام ہوا حسن طلب کا

    جھولی میری بھر بھر کے کہا اور بھی کچھ مانگ

    سلطان مدینہ کی زیارت کی دعا کر

    جنت کی طلب چیز ہے کیا اور بھی کچھ مانگ

    دے سکتے ہیں کیا کچھ کے وہ کچھ دے نہیں سکتے

    یہ بحث نہ کر ہوش میں آ اور بھی کچھ مانگ

    مانا کہ اسی در سے غنی ہو کے اٹھا ہے

    پھر بھی در سرکار پہ جا اور بھی کچھ مانگ

    پہنچا ہے جو اس در پہ تو رہ رہ کے نصیرؔ آج

    آواز پہ آواز لگا اور بھی کچھ مانگ

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نا معلوم

    نا معلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے