رہے گی ناخنِ فرقت کی کب تک سینہ افگاری
رہے گی ناخنِ فرقت کی کب تک سینہ افگاری
کرے گی یاس تاکہ زخم پر دل کے نمک باری
بہیں گے دل کے ٹکڑے بن کے آنسو آنکھ سے کب تک
رہیں گے چشم پر ارماں سے کب تک اشک غم جاری
یہ بے سامانیاں یہ ضعف اور یہ دوری منزل
دلِ بے صبر کی کب تک رہے گی ایسی نا چاری
شکستہ سی امیدیں زندگی کی کچھ معاون ہیں
کمر ہمت کی توڑے ڈالتی ہے اپنی ناداری
نہ کچھ حسنِ عمل ہی ہے نہ کوئی مادی ساماں
جو کچھ ساماں ہے تو چھوٹی سی تھوڑی گریہ و زاری
میں کس منہ سے کہوں مجھ کو بلا لیجے مدینہ میں
میں خود نادم ہوں آقا دیکھ کر اپنی سیہ کاری
کہاں مجھ سا کمینہ اور کہاں وہ بقعہ طاہر
کہ جس میں جلوہ فرما ہیں حبیب حضرت باری
ولیکن کیا تعجب ہے اگر اپنی کریمی سے
کرے وہ رحمتِ عالم خطا کاروں کی ستاری
ذرا بھی چشمِ رحمت ہو تو مٹ جائیں گناہ میرے
مرادیں سب بر آئیں نکلیں دل کی حسرتیں ساری
مدینہ ہو یہ آنکھیں ہوں وہ سنگ دریہ پیشانی
وہ آقا ہوں یہ بندہ ہو یہ دامن وہ گہر باری
یہ شیدا ہو وہ روضہ ہو یہ آنکھیں ہوں وہ جلوے ہوں
یہ طالب ہو وہ مطلب ہو یہ دل ہو اور وہ دل داری
زباں پر ہوں درودیں سر جھکا ہو ہاتھ پھیلے ہوں
مزا ہو برسرِ جود و کرم ہو لطفِ سرکاری
زہے قسمت گدا ہوں میں اسی سرکار عالی کا
عطا فرمائی جس کو حق نے سرداروں کی سرداری
ملے وہ انبساط و فرح روحانی و ایمانی
دلِ غم دیدہ اپنا بھول جائے گریہ وزاری
تمنائیں مچلتی ہوں عطائیں لطف کرتی ہوں
دعاؤں کی اجابت کر رہی ہو ناز برداری
وہ الطاف کریمانہ ہوں وہ انعام شاہانہ
نعیم الدیںؔ کو دیکھیں دیدۂ حرت سے درباری
- کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 30)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.