کیوں پوچھ رہا ہے کوئی احسنؔ کے مشاغل
کیوں پوچھ رہا ہے کوئی احسنؔ کے مشاغل
کیا حسنِ عمل دفترِ عصیاں میں ملے گا
اوقات ہیں بے ضابطہ حالات ہیں بے ربط
ہر وقت وہ فکرِ غمِ دوراں میں ملے گا
اس پر بھی ہے اصرار اگر تم کو توسن لو
آوارہ دورنگی کے بیا باں میں ملے گا
یا صبح کو ہوگا وہ مصلّیٰ پہ نمایاں
یا خفتہ کسی گوشۂ پنہاں میں ملے گا
جب تک نہ ڈھلے دوپہر اس وقت تک اس کو
ڈھونڈو گے تو اطفال دبستاں میں ملے گا
دیکھو گے اگر دو بجے سے چار بجے تک
سویا ہوا بیٹھا ہوا ایواں میں ملے گا
پھر چار بجے شام سے چھ سات بجے تک
مشغول ملاقات عزیزاں میں ملے گا
ہوگی پسِ مغرب جو تلاش اس کی تو اکثر
پڑھتا ہوا کچھ بزم شبستاں میں ملے گا
ہوگا انہیں اوقات میں جو وقت میسر
سر گرم عمل شعر کے میداں میں ملے گا
جب تابہ کمر زلف شب آئے گی اس کو
پہلوئے سکوں خوابِ پریشاں میں ملے گا
القصہ جو ہے آج یہاں محوِ تکلم
لب بستہ وہ کل شہر خموشاں میں ملے گا
- کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش حصہ اول (Pg. 28)
- Author : عرفان عباسی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.