نہیں آج کھلتا یہ کیسی سحر ہے
دلچسپ معلومات
مسدس از فتنہ ۱۸۸۴ء۔
نہیں آج کھلتا یہ کیسی سحر ہے
بسی بوئے گل سے ہر اک رہ گزر ہے
سماں ہے کچھ ایسا کہ دل پُراثر ہے
طلسمی کرشمہ سا پیشِ نظر ہے
نہیں آج پہلا سا ہے ڈھنگ کوئی
زمانے نے بدلا نیا رنگ کوئی
سہانی سحر ہم نے دیکھی ہے سو بار
رہے عمر بھر محوِ سیرِ چمن زار
وہ کلیوں کا کھلنا وہ چڑیوں کی چہکار
وہ سبزے کا دامن وہ شبنم گہربار
ہوا سے ستم جھومنا ہر شجر کا
پپیہے کی بولی سے کھنچنا جگر کا
بھر لالہ و گل سے دامان کہسار
رواں موج در موجِ دریائے زخار
گھنی جھاڑیاں اور صحرائے پُرخار
بھری بستیاں اور خاموش
ہوئی شمع ٹھنڈی ادھر جھلملا کے
ادھر لے چلے ہم کو جھونکے ہوا کے
کہیں ہیں نوا سنج مرغانِ گلشن
کہیں ہیں بھرے اور خالی نشیمن
چلے جھونکے ٹھنڈی ہواؤں کے سن سن
خرماں روش پر حسینانِ لندن
ہنسی سے کلی کھکھلاتی ہے کیا کیا
نسیم چمن گدگداتی ہے کیا کیا
کہیں بت کدوں میں ہیں ناقوں بجتے
کہیں مندروں میں ٹھنکتے ہیں گھنٹے
بھری مسجدوں میں عبادت کے چرچے
کلیسا میں پہنچے ہیں نعرے اذاں کے
یہ غال ہے کہ کانوں کے پردے پھٹے ہیں
کلیساؤ دیر و حرم گونجتے ہیں
رواں سوئے میخانہ رندانِ میخوار
یہ ہے فکر پی آئیں ہم جام دوچار
غرض شیخ ہے نہ کچھ فکرِ دستار
لیے جاتی ہے مضطرب عجلتِ کار
نہیں شوق میں پاؤں پڑتا زمیں پر
اڑے جاتے ہیں کاگ بوتل کا بن کر
کوئی خواب گہ میں پڑا سو رہا ہے
جوانی کی نیندوں کا لیتا مزا ہے
نہیں ہوش اس کا کہ تڑکا ہوا ہے
خبر کیا ہو غفلت کا پردا پڑا ہے
مزا خواب کا اور سر مستیاں ہیں
جوانی کی نیندیں ہیں انگڑائیاں ہیں
کوئی نور کے تڑکے چپکے اٹھا ہے
پریشاں گیسو ہیں جوڑا کھلا ہے
وہ بھولا سا چہرہ کچھ اتر ہوا ہے
چھپائے ہوئے روئے زیبا چلا ہے
یہ ڈر ہے ستائیں گے جھونکے ہوا کے
کریں گے پریشاں آنچل اڑا کے
سہانا سماں صبح روشن کا دیکھا
نکھرتا ہوا رنگ گلشن کا دیکھا
ہے پھیلا و دریا کے دامن کا دیکھا
تماشا کبھی دشت ایمن کا دیکھا
زمانے کی رفتار دیکھی ہے ہم نے
سحریوں تو سوبار دیکھی ہے ہم نے
مگر آج کیا ہے کہ عالم نیا ہے
زمانے میں چاروں طرف گل مچا ہے
نہ آیا سمجھ میں تماشا یہ کیا ہے
تحیر فزا کچھ عجب ماجرا ہے
بدلتا زمانہ کبھی یوں نہیں تھا
سنور تا کبھی پیرِ گردوں نہیں تھا
نمایاں جوانی کی چہرے سے سرخی
غلط ہے جو کہتے ہیں رنگ لی ہے داڑھی
نشاں بھی نہیں نام کو ریش کیسی
سنا ہے کسی رند نے نوچ لی تھی
جوانانہ دل میں امنگ آ گئی ہے
خدا جانے کیسی ترنگ آ گئی ہے
زمانے کا سب طور بدلا ہوا ہے
چلی باغ میں اور ہی کچھ ہوا ہے
جدھر دیکھیے اک شگوفہ کھلا ہے
یہ دھومیں ہیں ہرسو قیامت بپا ہے
کبھی اس طرح رنگ لائی نہیں تھی
بہار ایسی گلشن میں آئی نہیں تھی
چمن زار میں آگ بھڑکی ہے ایسی
لپٹ اٹھی گردوں کی گردوں سے اونچی
بہت دور پہنچی لپک ہر شرر کی
دھوئیں نے دبالی ہے طوبیٰ کی چوٹی
بہت ہے کثیف اس کی جو تیرگی ہے
فلک پر شفق بن کے پھولی ہوئی ہے
گل افشاں نہیں ہے لچک شاخِ گل کی
شرر اڑ رہے ہیں چمکتی ہے بجلی
نظر کو چکاچوند ہوتی ہے کیسی
چمن دشت ایمن وہ برق تجلی
جو چوٹی میں کوئی شگفتہ کلی ہے
وہ قندیل عرش معلیٰ بنی ہے
ہر اک خار کی آج صورت نئی ہے
نزاکت رگِ گل کی اس میں بھری ہے
زمینِ چمن میں عجب تازگی ہے
جوپتی ہے وہ پھول کی پنکھڑی ہے
عروسِ چمن کی بنی لاڈلی آج
خزاں آئے تو جائے پھولی پھلی آج
سحر کی سپیدی کی ہے اور صورت
بیاضِ گلوئے حسیں سے ہے نسبت
کہوں آئینہ تو ہو پیدا کدورت
کہوں دامنِ حور تو آئے شامت
اندھیرا نہ ہوتا تھا کافور ایسا
جھاجھم برستا نہ تھا نور ایسا
وہ پھٹتے میں سورج کا صورت دکھانا
وہ شرما کے گھونگھٹ کا رخ سے اٹھانا
دمکنا وہ کندن سا چہرہ سہانا
وہ رنگین بادل میں پھر منہ چھپانا
درخشندہ چہرہ ہے سب کی نظر ہے
شعاعوں کی جھرمٹ میں الجھی نظر ہے
نہ دیکھی تھی ایسی کبھی صبحِ روشن
عروسِ چمن پر نہ ایسا تھا جوبن
جدھر دیکھو ہیں ڈھیر گلہائے روشن
نہیں ایسے گلہائے انجم کے خرمن
نگاہوں میں چھایا سماں نور کا ہے
زمیں نور کی آسماں نور کا ہے
نہیں خاک چھینٹوں سے شبنم کے تر ہے
کہ چھڑکاؤ میں صرف آبِ گہر ہے
صفائی میں آئینہ ہر رہ گزر ہے
جوصورتِ ادھر ہے وہ صورت ادھر ہے
اڑی گرد بھی کچھ تو گلگو نہ بن کر
بہارِ رخ نازنینانِ دلبر
جسے دیکھیے ہے وہ محوِ تماشا
جدھر دیکھیے ایک ہنگامہ پیدا
وہ ہلچل پڑی ہے کہ محشر ہے برپا
زمانہ ہوا ہے ہے زخود رفتہ گویا
کچھ اس طرح غل زیر افلاک اٹھا
پریشاں ہر آسودۂ خاک اٹھا
پہر دن چڑھے تک جو سوئے تھے غافل
کہاں نیند اب ان کو بے چین ہے دل
اٹھے ہیں کہ بے ان کے سونی ہے محفل
کسی طرح اب یہ بھی ہو جائیں شامل
کہاں وقت باقی کہ بن ٹھن کے نکلیں
وہ بن بن کے متوالے جو بن کے نکلیں
کلیسا سے پیرِ کلیسا چلا ہے
وہ شیخ حرم ہے جو تھامے عصا ہے
بزرگانِ نیچر سے اک آ رہا ہے
وہ بوڑھا سا راہب بڑے دیر کا ہے
کہاں کے صنم خانے کیسے شوالے
پوجاری نکل کر چلے مندروں سے
کھلا نور کے تڑکے در میکدے کا
نظر آیا پیر مغاں گام فرسا
بھلا ذکر رندانِ میکشن کا ہے کیا
پرا باندھ کر غول کا غول نکلا
نہ ساغر کی خواہش نہ فکر صبوحی
چلیں کس طرح ٹکڑیاں میکشوں کی
خراماں خراماں حسیں جا رہے ہیں
وہ جھرمٹ کیے نازنین جا رہے ہیں
وہ اٹھلاتے کچھ مہ جبیں جا رہے ہیں
وہ شرماتے پردہ نشیں جا رہے ہیں
قیامت ہیں آفت ہیں انداز ان کے
اٹھائے نہ دشمن کبھی ناز ان کے
تقاضا یہ بے تابیٔ شوق کا ہے
جو اس طرح ان کا قدم اٹھ رہا ہے
پھر اس پر بھی نخوت بھری ہر ادا ہے
زخود رفتگی بھی محیر نما ہے
یہ ایسے نہیں ہیں کہ بے تاب جائیں
خرامِ ادا پر کبھی حرف لائیں
جدھر دیکھیے شورِ دیوانگی ہے
جدھر دیکھیے دھوم سی اک مچی ہے
جدھر دیکھیے بزمِ عشرت رچی ہے
جدھر دیکھیے خلق امڈی پڑی ہے
ادھر غول کوئی ادھر کوئی صف ہے
ہجوم تماشائیاں ہر طرف ہے
زمانے کی ہر بات گویا نئی ہے
نئی ہے صدی اور نیا سال بھی ہے
فلک کی بھی صورت تو بدلی ہوئی ہے
بڑھاپے میں اس کو جوانی ملی ہے
لیے سو جوانی شفق کی پھبن ہے
کہے کون اس کو کہ چرخِ کہن ہے
قیامت کو تفویض ہے اہتمام آج
حسینوں کو ہے خدمتِ انتظام آج
خدا جانے کیسی یہ ہے دھوم دھام آج
جو کرنا پڑا نازنینوں کو کام آج
وہ بیٹھے تو یہ اٹھ کے کچھ رنگ دکھلائیں
قیامت جو تھک جائے یہ ہاتھ بٹوائیں
مبارک زمانے کی نیرنگیوں کو
مبارک فلک کی ستم رانیوں کو
مبارک بتوں کی جفا کاریوں کو
مبارک شرارت بھری شوخیوں کو
حسینوں کا کچھ چھیڑنا رنگ لایا
کہ خوابیدہ فتنے نے پھر سر اٹھایا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.