جو کہ عالم میں ہے وہ تجھ میں ہے سب
جو کہ عالم میں ہے وہ تجھ میں ہے سب
رافت اپنے میں دیکھ قدرت رب
سر ترا ہے نمونۂ افلاک
خاک ہے تو ولے ہے مظہر پاک
دونوں آنکھیں تری ہیں مہر و ماہ
تجھ میں روشن ہے قدرت اللہ
رگ و ریشے ترے ہیں جون اشجار
خون بدن میں ہے صورت انہار
دل ترا شکل عرشِ بالا ہے
مورد نور حق تعالیٰ ہے
تو صغیر اور کبیر ہے عالم
پر ترا ہی کچھ اور ہے عالم
جو تجلی کہ تیرے اندر ہے
فرش سے عرش تک وہ کس پر ہے
تیری جس جا تلک رسائی ہے
واں تلک بار کس نے پائی ہے
تو سراپا ہے مظہر باری
واسطے تیرے سب ہے گلکاری
باغِ گیتی تیرے لیے ہے کھلا
چمنِ دھر ہے شگفتہ ہوا
گوہرِ بے بہا عجب ہے تو
جاننا آپ کو یہ کب ہے تو
آپ اپنے کی آبرو کھو مت
متوجہ کسی طرف ہو مت
دیکھ اپنے ہی سینے میں سب کچھ
چمکے ہے اس نگینے میں سب کچھ
دل تیرا صاف آئینہ سا ہے
جلوہ گر اس میں روئے جانا ہے
رافتؔ اب اور بس نہ کچھ کہیے
یہی کافی ہے نکتہ چپ رہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.