Font by Mehr Nastaliq Web

جو کہ عالم میں ہے وہ تجھ میں ہے سب

نا معلوم

جو کہ عالم میں ہے وہ تجھ میں ہے سب

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    جو کہ عالم میں ہے وہ تجھ میں ہے سب

    رافت اپنے میں دیکھ قدرت رب

    سر ترا ہے نمونۂ افلاک

    خاک ہے تو ولے ہے مظہر پاک

    دونوں آنکھیں تری ہیں مہر و ماہ

    تجھ میں روشن ہے قدرت اللہ

    رگ و ریشے ترے ہیں جون اشجار

    خون بدن میں ہے صورت انہار

    دل ترا شکل عرشِ بالا ہے

    مورد نور حق تعالیٰ ہے

    تو صغیر اور کبیر ہے عالم

    پر ترا ہی کچھ اور ہے عالم

    جو تجلی کہ تیرے اندر ہے

    فرش سے عرش تک وہ کس پر ہے

    تیری جس جا تلک رسائی ہے

    واں تلک بار کس نے پائی ہے

    تو سراپا ہے مظہر باری

    واسطے تیرے سب ہے گلکاری

    باغِ گیتی تیرے لیے ہے کھلا

    چمنِ دھر ہے شگفتہ ہوا

    گوہرِ بے بہا عجب ہے تو

    جاننا آپ کو یہ کب ہے تو

    آپ اپنے کی آبرو کھو مت

    متوجہ کسی طرف ہو مت

    دیکھ اپنے ہی سینے میں سب کچھ

    چمکے ہے اس نگینے میں سب کچھ

    دل تیرا صاف آئینہ سا ہے

    جلوہ گر اس میں روئے جانا ہے

    رافتؔ اب اور بس نہ کچھ کہیے

    یہی کافی ہے نکتہ چپ رہیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے