نظمیں
مارہرہ کے ایک خوش حال صوفی، علم و ادب کی فضاؤں سے معمور اور رشد و ہدایت میں مشہور۔
اردو تنقید کے بانیوں میں شامل۔ ممتاز قبل از جدید شاعر۔ مرزا غالب کے سوانح ’یاد گار غالب‘ لکھنے کےلئے مشہور
اپنے زمانے کے مشہور کھلاڑی، ڈرامہ نویس، وکیل، اچھے شہری اور نیک نفس انسان تھے۔
معروف نعت گو شاعر اور ’’بے خود کئے دیتے ہیں انداز حجابانہ‘‘ کے لیے مشہور
مقبول ترین مابعد کلاسیکی شاعروں میں نمایاں، امیر مینائی کے شاگرد۔ داغ دہلوی کے بعد حیدرآباد کے ملک الشعرا۔
حاجی وارث علی شاہ کے چہیتے مرید جنہوں نے پیرومرشد کے حکم پر جنگل میں زندگی گذاری
مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور
"تذکرہ آثار الشعرائے ہندو" کے مصنف، ایک ادبی محقق اور شاعر ہیں جنہوں نے ہندو شاعروں کی زندگی اور کلام کو دستاویزی انداز میں محفوظ کیا۔
آپ نہایت ذہن و طباع تھے، اسلامیہ کالج کلکتہ، نالندہ کالج، گیا کالج، بی، وی اے کالج سیوان میں صدر شعبۂ اردو و فارسی رہے۔
ممتاز مقبول عام شاعر، حب الوطنی کے نظموں کے لئے مشہور ، پدم بھوشن کا اعزار