عالم تمام از رخ جانانہ روشن است
عالم تمام از رخ جانانہ روشن است
از یک چراغ کعبہ و بت خانہ روشن است
پوری دنیا محبوب کے چہرے سے روشن ہے،
ایک ہی چراغ سے کعبہ و بت خانہ دونوں روشن ہیں۔
دارد رواق چشم ز خون دلم چراغ
تا بادہ ہست دیدۂ پیمانہ روشن است
آنکھ کے خیمے میں میرے خونِ دل کا چراغ جلتا ہے،
جب تک شراب ہے، نظر کا پیمانہ روشن ہے۔
چوں آفتاب نور مے آفاق را گرفت
گر کور نیستی رہ مے خانہ روشن است
شراب کے نور نے آسمانوں کو اپنے حصار میں لے لیا ہے،
کاش تیری آنکھ دیکھ سکے، مے خانے کی راہ تو روشن ہے۔
امروز نیست بادۂ دوشینہ ات نہاں
بر عالمے ز دیدن مستانہ روشن است
آج کل رات جیسی شراب کہاں موجود ہے،
مستوں کو دیکھ کر ہی ایک پراسرار دنیا روشن ہو جاتی ہے۔
از شمع آفتاب مثال سخن حزیںؔ
کلک سیاہ روز ترا خانہ روشن است
اے حزیں! سورج کے چراغ سے باتوں کی طرح،
تمہارے بدنصیب قلم کا گھر روشن ہے۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 53)
- مطبع : نورالحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.